LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ نئے اور خطرناک وائرس

News Image
مصنوعی ذہانت کی مدد سے سائنسدانوں نے ایسے جینیاتی وائرس تیار کر لیے ہیں جو قدرتی طور پر کہیں نہیں پائے جاتے۔ یہ مصنوعی وائرس نہ صرف زندہ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں قدرتی وائرس سے بھی زیادہ تیزی سے افزائش کرتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے میدان میں ہونے والی پیشرفت نے سائنس کی دنیا کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خطرات اور امکانات ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ حال ہی میں ماہرین نے ایک حیران کن اور تشویشناک پیش رفت میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے جینیاتی فارمولے تیار کیے ہیں جن سے ایسے وائرس تخلیق کیے گئے جو قدرتی طور پر زمین پر کہیں موجود نہیں ہیں۔ یہ تحقیق سائنسدانوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج اور اہم کامیابی دونوں تصور کی جا رہی ہے۔ اس تجربے کے دوران مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ سولہ وائرس لیبارٹری کے ماحول میں بیکٹیریا کے اندر کامیابی سے زندہ ہو گئے۔ سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ وائرس اپنے قدرتی نمونوں یا ان وائرسوں کے مقابلے میں جن کی بنیاد پر انہیں ڈیزائن کیا گیا تھا، کہیں زیادہ تیزی سے افزائش کرنے اور اپنی تعداد بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صلاحیت نے وائرولوجسٹس اور بائیو ٹیکنالوجی کے ماہرین میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی یا یہ ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جہاں یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں ویکسین کی تیاری اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے، وہیں اس کا غلط استعمال تباہ کن ہو سکتا ہے۔ اگر اس طرح کی ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی جائے تو یہ ایک ایسی عالمی وبا کو جنم دے سکتی ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی ویکسین یا مدافعت موجود نہ ہو۔ اس لیے اب دنیا بھر میں سائنسی اخلاقیات اور بائیو سیفٹی کے اصولوں کو مزید سخت کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے اس غیر معمولی استعمال کو کنٹرول کیا جا سکے۔ فی الحال، یہ وائرس صرف لیبارٹری کے کنٹرول ماحول تک محدود رکھے گئے ہیں، لیکن اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانی تخیل اور مصنوعی ذہانت مل کر فطرت کے قوانین کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مستقبل میں اس تحقیق کے کیا اثرات ہوں گے، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس طاقتور ٹیکنالوجی کو کس طرح ریگولیٹ کرتے ہیں اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کو کس طرح انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔