LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت: لبلبے کے کینسر کے علاج میں بڑی کامیابی

News Image
امریکی ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک ایسے مالیکیول کو ڈیزائن کیا ہے جو لبلبے کے کینسر کے پروٹین کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ پیش رفت کینسر کے علاج میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
میو کلینک فلوریڈا کے محققین نے ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ایک ایسا چھوٹا مالیکیول ڈیزائن کیا ہے جو لبلبے کے کینسر (Pancreatic Cancer) میں ملوث ایک ایسے پروٹین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جسے ماضی میں ادویات کے ذریعے ختم کرنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ لبلبے کا کینسر طب کی دنیا میں ایک انتہائی پیچیدہ چیلنج رہا ہے کیونکہ اس میں موجود مخصوص پروٹینز اپنی ساخت کی وجہ سے ادویات کے اثرات کو قبول نہیں کرتے تھے۔ تاہم، اب اے آئی کی جدید ٹیکنالوجی نے اس مشکل کو آسان بنا دیا ہے۔ تحقیقی ٹیم نے لیبارٹری کے تجربات میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یہ مالیکیول خاص طور پر ان پروٹینز کے ساتھ جڑ جاتا ہے جنہیں سائنسدانوں نے برسوں پہلے 'ناقابلِ علاج' قرار دے دیا تھا۔ یہ کامیابی نہ صرف کینسر کے علاج میں ایک نئی امید ہے بلکہ یہ ثابت کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح فارماسیوٹیکل اور بائیو میڈیکل تحقیق میں نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ اس مالیکیول نے کینسر کے خلیات کے اندرونی نظام کو متاثر کیا جس سے بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں۔ عام طور پر نئی دوا کی تیاری میں برسوں لگتے ہیں اور کامیابی کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، لیکن اے آئی کی مدد سے مالیکیولز کی ڈیزائننگ اور ان کی کارکردگی کو جانچنے کا عمل کئی گنا تیز ہو گیا ہے۔ ٹیم اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ اس مالیکیول کو مزید بہتر بنا کر انسانی کلینیکل ٹرائلز کے لیے کیسے تیار کیا جائے۔ میو کلینک کے اس اقدام کو کینسر ریسرچ کے شعبے میں ایک گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ طریقہ کار کامیاب رہتا ہے تو مستقبل میں لبلبے کے کینسر سمیت دیگر مہلک بیماریوں کے علاج کے لیے بھی اسی طرح کی حکمت عملی اپنائی جا سکے گی۔ دنیا بھر کے طبی ماہرین اس تحقیق کی گہری نگرانی کر رہے ہیں، کیونکہ یہ پیش رفت ان ہزاروں مریضوں کے لیے نئی زندگی کی نوید ثابت ہو سکتی ہے جو روایتی علاج کے باوجود صحت یابی کی امید کھو چکے تھے۔