LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سینیٹ کی جانب سے روس پر سخت پابندیوں کا نفاذ

News Image
امریکی سینیٹ نے روس کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کی منظوری دے دی ہے جس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ اس اقدام سے روس کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک بشمول بھارت اور چین کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی سینیٹ نے روس کے خلاف اپنی اب تک کی سب سے سخت ترین پالیسی اور پابندیوں کا بل بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کے دوران روس کے خلاف اٹھایا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد روس کو یوکرین کے معاملے اور دیگر عالمی تنازعات میں جارحانہ کردار ادا کرنے پر معاشی اور سیاسی طور پر تنہا کرنا ہے۔ واشنگٹن کے ان اقدامات سے نہ صرف روس براہِ راست متاثر ہوگا بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس کے اثرات کی لپیٹ میں آئیں گے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد بھارت اور چین جیسے ممالک کے لیے روس کے ساتھ تجارتی اور عسکری تعلقات برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ بھارت کی بڑی تعداد میں دفاعی ساز و سامان اور توانائی کی ضروریات روس سے پوری ہوتی ہیں، جبکہ چین بھی روس کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات رکھتا ہے۔ امریکی پابندیوں کا دائرہ کار اتنا وسیع ہے کہ جو بھی ملک روس کے توانائی یا دفاعی شعبوں میں تعاون کرے گا، اسے امریکی دباؤ اور اقتصادی تنبیہات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی سپلائی چین اور ایشیائی منڈیوں میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری میں اس قانون سازی پر ملا جلا ردعمل پایا جاتا ہے۔ جہاں امریکی قانون سازوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات روس کی جارحیت کو روکنے کے لیے ناگزیر ہیں، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی یکطرفہ پابندیاں عالمی تجارت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور دنیا کو دوبارہ سرد جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ بھارت اور چین اب سفارتی سطح پر ان پابندیوں کے اپنے مفادات پر اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا روس ان پابندیوں کے جواب میں کیا جوابی کارروائی کرتا ہے اور کیا عالمی طاقتیں اس نئے بحران کو سفارتی طریقے سے حل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں۔