World
انڈونیشیا میں پانی کی کمی سے ڈوبا ہوا گاؤں منظر عام پر آ گیا
انڈونیشیا میں شدید خشک سالی کے باعث کیریان ریزروائر کا پانی کافی حد تک کم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے کئی سال قبل ڈوبنے والا ایک گاؤں دوبارہ سطح پر آ گیا ہے۔ ڈرون فوٹیج میں گھروں کے ڈھانچے اور قدیم بستیاں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
انڈونیشیا میں شدید خشک سالی کے اثرات نے ایک حیران کن منظر پیش کیا ہے جہاں کیریان ریزروائر (Karian Reservoir) میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر جانے کے بعد برسوں پہلے زیر آب آنے والا ایک قدیم گاؤں دوبارہ سطح پر نمودار ہو گیا ہے۔ ڈرون کے ذریعے لی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پانی کی کمی کے بعد یہاں موجود مکانات کے ڈھانچے، راستے اور دیگر تعمیرات واضح ہو چکی ہیں، جو برسوں تک گہرے پانیوں میں چھپی ہوئی تھیں۔ مقامی حکام کے مطابق یہ منظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انڈونیشیا کے کئی علاقوں میں موسم کی شدت اور بارشوں کی کمی کے باعث پانی کے ذخائر بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں اور انڈونیشیا کے یہ آبی ذخائر، جو کبھی سرسبز اور زرخیز علاقوں کو سیراب کرنے کا ذریعہ تھے، اب خشک سالی کی زد میں ہیں۔ ریزروائر سے پانی کم ہونے کے بعد مقامی آبادی اور سیاحوں کے لیے یہ ایک انوکھا اور فکر انگیز منظر ہے۔ اگرچہ یہ ایک تاریخی دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے، لیکن ماہرین اسے خشک سالی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ایک انتباہ قرار دے رہے ہیں۔ خشک سالی کے باعث صرف فصلیں ہی نہیں بلکہ انسانی بستیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں جنہیں طویل عرصہ قبل بجلی اور پانی کے منصوبوں کے لیے منتقل کر دیا گیا تھا۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح کم ہونے سے متعلق نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ صورتحال کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ فی الحال یہ گاؤں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی بن رہا ہے تاہم حکام نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ زیرِ آب رہ جانے والی بستیوں کے ملبوں کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ ڈھانچے کمزور ہو چکے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پانی کے وسائل کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ انڈونیشیا کے یہ آبی ذخائر مستقبل میں پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک کے لیے ایک بڑی مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔