LIVE
Loading Breaking News...

کے پی اسمبلی میں مراعات قانون میں ترمیم اور صوبائی خود مختاری پر قرارداد

News Image
خیبر پختونخوا اسمبلی نے اراکین کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ اور اسلحہ لائسنس کی مراعات واپس لے لی ہیں۔ اجلاس میں ہزارہ کے علاقوں کو وفاقی تحویل میں لینے کی مبینہ کوششوں کے خلاف متفقہ طور پر سخت قرارداد منظور کی گئی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی نے جمعہ کے روز صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026ء میں کی گئی متنازعہ ترامیم کو واپس لے لیا ہے، جس کے تحت اراکین اسمبلی اور ان کے شریک حیات کو تاحیات سرکاری 'بلیو پاسپورٹ' اور اسلحہ لائسنس جیسی مراعات دی گئی تھیں۔ میڈیا اور عوامی حلقوں کی شدید تنقید کے بعد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے اس قانون پر نظرثانی کی اور اب ترمیم شدہ بل کے مطابق یہ مراعات اب اسمبلی کی مدت تک محدود کر دی گئی ہیں۔ ترمیم کے تحت اراکین کو ملنے والے تاحیات اسلحہ لائسنس کی تعداد کو بھی آٹھ سے کم کر کے چار کر دیا گیا ہے، جبکہ صحافیوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سزاؤں اور جرمانوں میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ اسمبلی کے اجلاس میں صوبے کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ایک سخت قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی، جس میں ہزارہ کے علاقوں کو وفاقی تحویل میں لینے کی مبینہ کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ قرارداد تحریک انصاف کے رکن اکبر ایوب کی جانب سے پیش کی گئی جس میں واضح کیا گیا کہ ہری پور، ایبٹ آباد اور دیگر اضلاع خیبر پختونخوا کا اٹوٹ انگ ہیں اور انہیں کسی صورت وفاقی علاقے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ ایوان نے خبردار کیا کہ صوبے کے قدرتی وسائل، جنگلات اور پن بجلی کے منصوبوں پر کسی بھی قسم کا قبضہ یا کنٹرول وفاق اور صوبے کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اجلاس کے دوران اراکین اسمبلی نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ رکن اسمبلی سلطان روم نے سوات میں دوبارہ سر اٹھاتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام اب مزید خونریزی اور نقل مکانی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے سوات میں امن کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح، حزب اختلاف کی رکن مہر سلطانہ نے محکمہ صحت کی توجہ ایک اہم معاملے کی طرف مبذول کرائی اور مطالبہ کیا کہ ڈاکٹروں کے لیے ادویات کے برانڈ ناموں کے بجائے جنیرک نام لکھنے کو لازمی قرار دیا جائے، تاکہ مریضوں کو مہنگی ادویات کے بوجھ سے نجات مل سکے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت عوامی مفادات کو مقدم رکھے گی اور تمام فیصلوں کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے کیا جائے گا۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صوبائی حدود میں تبدیلی یا قدرتی وسائل پر قبضے کے کسی بھی منصوبے کو فوراً ترک کرے۔ ایوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے عوام، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اپنی جغرافیائی حدود اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری راستہ اختیار کریں گے اور صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔