Pakistan
میر رضا علی قبر کشائی کیس: سندھ حکومت کا اصل میڈیکل بورڈ بحال کرنے کا فیصلہ
آئی بی اے گریجویٹ میر رضا علی کی لاش کی قبر کشائی کے لیے سندھ حکومت نے دوبارہ اصل میڈیکل بورڈ کو بحال کر دیا ہے۔ لواحقین کی جانب سے بورڈ میں تبدیلی پر تحفظات کے بعد حکام نے اپنے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے پرانے بورڈ کو ہی کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
کراچی میں آئی بی اے کے گریجویٹ اور تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کے بعد ان کی قبر کشائی کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ جمعہ کے روز شدید بے یقینی اور لواحقین کی جانب سے سخت احتجاج کے بعد سندھ حکومت نے بالآخر میر رضا علی کی لاش کی قبر کشائی کے لیے ابتدائی طور پر تشکیل دیے گئے اصل آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو بحال کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جمعہ کی صبح متوفی کے اہل خانہ نے بورڈ کی اچانک تشکیل نو اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے نئے ارکان کو شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ میر رضا علی کی لاش گزشتہ ماہ گلستانِ جوہر کے علاقے سے جھاڑیوں میں ملی تھی، جس کے بعد ان کے والد نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت سے قبر کشائی کے لیے رجوع کیا تھا۔
قبر کشائی کا عمل جمعہ کی صبح طارق روڈ کے قبرستان میں ہونا تھا، تاہم جب لواحقین کو معلوم ہوا کہ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے راتوں رات میڈیکل بورڈ کے ارکان تبدیل کر دیے ہیں، تو انہوں نے اس عمل کا بائیکاٹ کر دیا۔ خاندان کے وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حقائق چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اس نئے بورڈ کے ذریعے قبر کشائی کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے جو بورڈ تشکیل دیا تھا، اس پر سنگین سوالات اٹھ رہے تھے، اور یہ اقدام عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی تھی۔ لواحقین کا موقف تھا کہ اگر پہلا بورڈ غیر مستند تھا تو اسے پہلے کیوں نہیں روکا گیا، اور اگر وہ درست تھا تو اسے تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اور عوامی دباؤ کے پیشِ نظر، جمعہ کی شام سندھ ہیلتھ سیکرٹری نے ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں اصل میڈیکل بورڈ کو مکمل بحال کر دیا گیا۔ اس بورڈ کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کر رہی ہیں، جبکہ اس میں ڈاؤ یونیورسٹی اور جناح ہسپتال کے ماہرین شامل ہیں۔ حکومتی فیصلے کے بعد پولیس سرجن نے متعلقہ مجسٹریٹ کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اب قبر کشائی کا عمل ہفتے کے روز (آج) صبح مقررہ وقت پر انجام دیا جائے گا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ شفاف تفتیش کے لیے لاش کا معائنہ نہایت اہم ہے اور اب جبکہ اصل بورڈ بحال ہو چکا ہے، امید کی جا رہی ہے کہ کیس کے حقائق جلد سامنے آ سکیں گے۔
میر رضا علی کے والد نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور وہ براہِ راست اعلیٰ حکام سے انصاف کے طلبگار ہیں۔ اس کیس نے نہ صرف کراچی بلکہ پورے صوبے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں شفافیت اور طبی قانونی طریقہ کار (Medico-legal procedures) پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب جبکہ تمام رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں، شہریوں کی نظریں آج ہونے والی قبر کشائی اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ لواحقین نے حکام کو متنبہ کیا ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی غفلت یا رکاوٹ کو برداشت نہیں کریں گے اور عدالتی احکامات کے مطابق ہی معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔