Pakistan
پاکستان میں غیر ملکی صحافیوں پر عائد نئی حکومتی پابندیوں پر عالمی برہمی
پاکستان میں غیر ملکی میڈیا کے لیے حال ہی میں جاری کردہ نئی حکومتی گائیڈ لائنز پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پریس کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر عالمی اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان پابندیوں کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
پاکستان میں غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹس کے لیے حال ہی میں جاری کردہ 'فارن میڈیا فیسیلی ٹیشن گائیڈ لائنز 2026' پر ملک بھر اور بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی آزادی کے اداروں نے ان سخت ضوابط کو پریس کی آزادی پر ایک گہرا حملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان اقدامات کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔ نئی گائیڈ لائنز کے تحت اب صرف غیر ملکی صحافی ہی نہیں بلکہ پاکستان میں کام کرنے والے مقامی صحافی، فکسرز اور دیگر عملے کو بھی اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر رپورٹنگ یا سفر کے لیے سرکاری اجازت نامہ درکار ہوگا۔ یہاں تک کہ تفریحی سفر کے لیے بھی حکومت کے پاس اندراج لازمی قرار دیا گیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی پیٹریسیا گوسمین نے ان پابندیوں کو پاکستان میں آزادی صحافت کے سکڑتے ہوئے دائرہ کار میں ایک تشویشناک قدم قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے حالیہ بیان میں حکومت سے سوال کیا ہے کہ وہ سچائی سے کیوں خوفزدہ ہے؟ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے ان ضوابط کو 'ڈریکونین' یا ظالمانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی میڈیا کو محدود کرنے اور انہیں انتظامی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی ان گائیڈ لائنز کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ یہ پانچ صفحات پر مشتمل ضوابط ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت نے آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات اور احتجاجی مظاہروں کی بین الاقوامی میڈیا کوریج پر تنقید کی تھی۔ ان واقعات کے بعد غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو آزاد کشمیر سے جانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے تھے۔ فنانشل ٹائمز، رائٹرز اور بی بی سی سمیت متعدد عالمی نشریاتی اداروں نے بھی اس اقدام پر سخت خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے لیے ایک قدم پیچھے جانے کے مترادف ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے انڈیکس کے مطابق پاکستان پہلے ہی 180 ممالک کی فہرست میں 153 ویں نمبر پر ہے، اور ان نئی پابندیوں سے پاکستان کی عالمی ساکھ مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔