LIVE
Loading Breaking News...

نیب چیئرمین کا مطالبہ: 50 کروڑ روپے کی کرپشن کی حد ہٹانے کا مطالبہ

News Image
چیئرمین نیب نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کے لیے 50 کروڑ روپے کی حد کو فوری ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حد کی وجہ سے نیب کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور کرپشن میں ملوث عناصر بلاخوف کام کر رہے ہیں۔
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری افسران کے خلاف کرپشن کیسز کی تحقیقات کے لیے 50 کروڑ روپے کی مقرر کردہ حد کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نیب کے ہاتھ نہ کھولے گئے تو سرکاری افسران کرپشن کے عادی ہو جائیں گے اور قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا رہے گا۔ موجودہ قوانین کے تحت نیب 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز پر کارروائی کرنے کا مجاز نہیں ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں کیسز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اس حد کی وجہ سے ایک تھانیدار کے پاس نیب کے تفتیشی افسر سے زیادہ اختیارات موجود ہیں۔ اجلاس کے دوران نیب پراسیکیوٹر جنرل نے قانون کے ان پہلوؤں کی نشاندہی کی جن کے تحت نیب وفاقی یا صوبائی کابینہ اور ان کی کمیٹیوں کے فیصلوں کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔ تاہم، کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے وضاحت کی کہ اگرچہ کابینہ کے فیصلوں کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان فیصلوں کی آڑ میں بدعنوانی کرنے والے یا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ سینیٹر فاروق نائیک نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جیسے بڑے منصوبوں میں ہونے والی بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ڈیزائن میں خامیاں کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دوسری جانب، چیئرمین نیب نے انکشاف کیا کہ ملک میں ہونے والی کل کرپشن کا 45 فیصد حصہ نجی شعبے بشمول شوگر مافیا سے متعلق ہے۔ انہوں نے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ سیاست دان ملک کی کل کرپشن کا صرف 6 فیصد اور سرکاری افسران 11 فیصد ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے نجی شعبے اور دیگر متعلقہ اداروں میں جاری بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے مزید اختیارات کی ضرورت پر زور دیا۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی اس حد کو سیاست دانوں سمیت تمام شعبوں کے لیے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں تیل اور گیس کے شعبے میں جاری بدعنوانی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جہاں گزشتہ 20 سالوں سے ڈرلنگ کے باوجود پیداوار صفر ہے، جس پر نیب کو تحقیقات کا مشورہ دیا گیا۔ چیئرمین نیب نے دعویٰ کیا کہ بیورو اب تک 64 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے بحال کر چکا ہے۔