LIVE
Loading Breaking News...

یوم شہدائے پولیس: دہشت گردی کے خلاف پولیس کی قربانیاں اور سیکیورٹی چیلنجز

News Image
یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر صدر اور وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے افسران کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی سات ماہ میں 434 سیکیورٹی اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔
چار اگست کو منائے جانے والے 'یومِ شہدائے پولیس' کے موقع پر صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان نے ملک کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس افسران کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پولیس ہماری سماجی اقدار کا ایک اہم ستون ہے، جس کے اہلکاروں کی لازوال قربانیاں قوم کے لیے فخر کا باعث ہیں۔ دوسری جانب، پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے ابتدائی سات ماہ انتہائی تشویشناک رہے، جن میں 434 سیکیورٹی اہلکار دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں شہید ہوئے۔ ان میں سے 152 کا تعلق خیبر پختونخوا اور 89 کا بلوچستان سے ہے، جبکہ جولائی کا مہینہ حالیہ دہائی کا سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا جس میں 112 اہلکار شہید ہوئے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان دونوں صوبوں میں تشدد کی نوعیت مختلف مگر یکساں طور پر خطرناک ہے۔ خیبر پختونخوا نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے، اور اگست 2021 میں کابل میں طالبان کے کنٹرول کے بعد یہاں حالات میں مزید کشیدگی آئی ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران پولیس نے 314 سے زائد جوان کھو دیے ہیں۔ ادھر بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی شورش دو دہائیوں سے جاری ہے، جہاں بی ایل اے کی مجید بریگیڈ جدید اسلحے سے لیس ہو کر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ سوات اور بلوچستان کے علاقوں میں پولیس چوکیوں پر بڑھتے حملوں نے ریاستی اداروں کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر پولیس کی انفراسٹرکچر اور جدید آلات تک رسائی کا فقدان ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہے۔ ماہرین کے مطابق پولیس کو درپیش بنیادی چیلنجز میں انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے کا مربوط نظام نہ ہونا، پولیس اسٹیشنوں کی ناقص حفاظتی صورتحال اور کمیونٹی پولیسنگ میں کمی شامل ہیں۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور بلوچستان میں 'بی' ایریاز کو 'اے' ایریاز میں تبدیل کرنے کا عمل بغیر کسی منصوبہ بندی اور ضروری مالی وسائل کی فراہمی کے کیا گیا، جس کا خمیازہ آج پولیس اہلکار اپنی جانوں کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان دہشت گردوں کو اپنے نیٹ ورک پھیلانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کو فوری طور پر بہتر بنائے اور پولیس کو جدید اسلحہ، مواصلاتی نظام اور بہتر حفاظتی سہولیات فراہم کرے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔