LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی کے ذریعے نئے وائرس کی تیاری: طبی سائنس میں اہم پیش رفت

News Image
امریکی محققین نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسے نئے وائرسز تیار کر لیے ہیں جو قدرتی طور پر زمین پر موجود نہیں ہیں۔ یہ سائنسی پیش رفت طبی علاج میں انقلابی تبدیلیوں کی امید دلاتی ہے جبکہ اس سے حیاتیاتی خطرات سے متعلق خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔
امریکی محققین کی ایک ٹیم نے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کرتے ہوئے ایسے نئے وائرسز تخلیق کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا ہے جو قدرتی طور پر زمین پر کہیں بھی موجود نہیں ہیں۔ یہ سائنسی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے، جس نے طبی سائنس کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ محققین کے مطابق اس تحقیق کا بنیادی مقصد بیماریوں کے علاج کے لیے نئی ادویات اور ویکسین کی تیاری میں مدد حاصل کرنا ہے، کیونکہ مصنوعی وائرسز کے مطالعے سے انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سائنسدان ایسے مخصوص مالیکیولز تیار کر سکیں گے جو وائرس کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ تاہم اس کامیابی کے ساتھ ہی عالمی سطح پر اخلاقی اور سیکیورٹی خدشات نے بھی جنم لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح اے آئی نئے وائرس بنا سکتی ہے، اسی طرح یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں پڑ کر انتہائی خطرناک حیاتیاتی ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی سیکیورٹی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور حیاتیاتی انجینئرنگ کے ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ تحقیقی عمل کے دوران ٹیم نے جدید ترین الگورتھمز کا استعمال کیا تاکہ وائرس کے پروٹین اسٹرکچر کو سمجھا جا سکے اور پھر اسے ازسرنو ڈیزائن کیا جا سکے۔ یہ عمل نہ صرف وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ ایسے وائرل اسٹرکچرز کی تخلیق ممکن بناتا ہے جن تک رسائی قدرت میں موجود نمونوں کے ذریعے ممکن نہیں تھی۔ یہ تحقیق مستقبل میں کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے ایک نئی امید کی کرن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد ناقابل تردید ہیں، لیکن اس کے ساتھ جڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک کی فوری ضرورت ہے۔ سائنسی حلقوں کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا حیاتیات میں استعمال ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے، جسے بہت زیادہ احتیاط اور سخت نگرانی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا بھر کی حکومتیں اس طرح کی تحقیق کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتی ہیں۔