LIVE
Loading Breaking News...

روبوٹ ویکیوم کلینر کا دھماکہ: آسٹریلوی نوجوان کی حالت تشویشناک

News Image
آسٹریلیا میں ایک پچیس سالہ نوجوان اس وقت شدید زخمی ہو گیا جب اس کے گھر میں موجود روبوٹ ویکیوم کلینر اچانک زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ حادثے کے بعد متاثرہ نوجوان فی الحال ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اسے مصنوعی طریقے سے خوراک دی جا رہی ہے۔
آسٹریلیا سے ایک انتہائی تشویشناک اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ٹیکنالوجی کے استعمال اور حفاظت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پچیس سالہ نوجوان لیکی پیرم، جو پیشے کے اعتبار سے ایک کاریگر ہے، اپنے گھر میں موجود روبوٹ ویکیوم کلینر میں ہونے والے اچانک دھماکے کے بعد موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ اس حادثے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ نوجوان کو شدید جسمانی زخم آئے اور اسے ہنگامی بنیادوں پر ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ ڈاکٹروں کے مطابق، نوجوان کی حالت اب بھی انتہائی نازک ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لیے فیڈنگ ٹیوب کے ذریعے خوراک دی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ ٹیکنالوجی کے ان آلات کی ممکنہ خرابیوں کی جانب ایک المناک انتباہ ہے جنہیں ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں بلامعاوضہ استعمال کر رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات اور طبی ماہرین کی رپورٹس کے مطابق، روبوٹ ویکیوم کلینر کا اس طرح پھٹ جانا ایک انتہائی نایاب اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس طرح کے آلات میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں، جن میں فنی خرابی یا چارجنگ کے دوران شدید گرم ہو جانے کی صورت میں آگ لگنے یا دھماکے کا خدشہ رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خودکار آلات میں کسی قسم کا شارٹ سرکٹ یا بیٹری کا سیل پھٹ جانے سے اتنا بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ متاثرہ نوجوان کے اہل خانہ اور مقامی حکام اب اس معاملے کی مزید گہرائی سے جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ کوئی مینوفیکچرنگ فالٹ تھا یا کسی اور تکنیکی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ اس واقعے کے بعد آسٹریلیا بھر میں سمارٹ ہوم ڈیوائسز کے استعمال کرنے والوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ صارفین اب اپنے گھروں میں موجود خودکار کلینرز کی حفاظت کے بارے میں فکر مند ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق، لیکی پیرم کی صحت یابی کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے اور اسے مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں طویل وقت درکار ہوگا۔ اس واقعے نے نہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی سیفٹی ٹیسٹنگ پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے بلکہ عام شہریوں کو بھی یہ پیغام دیا ہے کہ برقی آلات، خاص طور پر وہ جو بیٹریوں سے چلتے ہیں، ان کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتنی چاہیے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قسم کے مشکوک برقی آلات کو فوری طور پر استعمال سے روک دیں اور کمپنی کے مجاز مراکز سے ان کی جانچ کروائیں۔