Technology
انڈونیشیا کا ایل نینو کے اثرات کم کرنے کے لیے آبی ٹیکنالوجی میں اضافہ
انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی شدید موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے پانی کی دستیابی یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایل نینو کی وجہ سے پیدا ہونے والے خشک سالی کے خطرات کو کم کرنا ہے۔
انڈونیشیا کی نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی (BRIN) نے موسمیاتی تبدیلیوں بالخصوص شدید ’ایل نینو‘ (El Nino) کے اثرات سے نمٹنے کے لیے جدید سائنسی ٹیکنالوجیز پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک میں آبی تحفظ کو یقینی بنانا اور خشک سالی کے خطرات کو کم سے کم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایل نینو کے باعث دنیا بھر میں بارشوں کے معمولات بری طرح متاثر ہوتے ہیں، جس سے زرعی پیداوار اور انسانی استعمال کے پانی کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے انڈونیشیا کی حکومت نے سائنسی تحقیق کو اپنی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔
نیشنل ریسرچ اینڈ انوویشن ایجنسی کے تحت سائنسدان موسم کی ترمیم (Weather Modification) کے ایسے جدید طریقے آزما رہے ہیں جن کے ذریعے خشک علاقوں میں مصنوعی بارش کا امکان پیدا کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کی صفائی اور سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے (Desalination) کی ٹیکنالوجیز پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز نہ صرف دیہی بلکہ شہری آبادیوں کے لیے بھی پانی کی فراہمی کے دیرپا ذرائع ثابت ہوں گی۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جدید نظام کم خرچ اور پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تغیرات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مذکورہ منصوبے کا ایک اہم پہلو پانی کے ذخائر کا بہتر انتظام اور ضیاع کو روکنا ہے۔ حکومت نے پانی کی بچت کے جدید آلات اور ٹیکنالوجی کی تنصیب کو بھی لازمی قرار دیا ہے تاکہ پانی کے موجودہ وسائل کو زیادہ دیر تک کارآمد بنایا جا سکے۔ برین (BRIN) کی ٹیموں کا دعویٰ ہے کہ ان جدید سائنسی اقدامات سے انڈونیشیا کے کسانوں کو فصلوں کی آبپاشی میں درپیش مشکلات کافی حد تک دور ہو جائیں گی۔ علاوہ ازیں، موسمیاتی پیش گوئی کرنے والے نظاموں کو بھی مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت اقدامات اٹھائے جا سکیں۔
مستقبل کے حوالے سے یہ منصوبہ انڈونیشیا کی قومی ترقی کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے ذریعے قدرتی آفات سے نمٹنے کا عزم کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تجربات کامیاب رہتے ہیں تو دوسرے ممالک بھی انڈونیشیا کے اس ماڈل سے استفادہ کر سکیں گے۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور خشک سالی کے خطرات کو دیکھتے ہوئے، ٹیکنالوجی کا یہ استعمال آنے والے وقتوں میں پانی کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔