Business
بھارت میں بائیو گیس پلانٹس کا منصوبہ اور جاپانی سرمایہ کاری
جاپان اور بھارت نے مشترکہ طور پر 2030 تک 1000 بائیو گیس پلانٹس لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ڈھائی ملین گاڑیوں کو ماحول دوست توانائی فراہم کی جا سکے۔ اس منصوبے کے ذریعے زرعی فضلے اور گائے کے گوبر کو ایندھن میں تبدیل کر کے توانائی کا بحران کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ٹوکیو اور نئی دہلی نے یکم جولائی کو ایک انتہائی اہم اور جدید اقدام کا آغاز کیا ہے جس کے تحت بھارت بھر میں 2030 تک ایک ہزار بائیو گیس پلانٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد زرعی فضلے اور مویشیوں، خاص طور پر گائے کے گوبر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی میں تبدیل کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 2.5 ملین گاڑیوں کو سستا اور ماحول دوست ایندھن فراہم کرنے میں مدد ملے گی، جو نہ صرف پیٹرولیم درآمدات پر انحصار کم کرے گا بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی لائے گا۔ یہ منصوبہ جاپان کی جانب سے بھارت کی آٹوموبائل مارکیٹ میں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے اور گرین انرجی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی ایک بڑی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔
اگرچہ اس منصوبے کے اعلان کے بعد توانائی کے ماہرین اسے ایک انقلابی قدم قرار دے رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس راستے میں کامیابی کا سفر انتہائی ناہموار اور چیلنجز سے بھرپور ہو سکتا ہے۔ ایک طرف بھارت میں زرعی فضلے کی وافر مقدار اس منصوبے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے، لیکن دوسری طرف بنیادی ڈھانچے کی کمی، لاجسٹک کے مسائل اور گیس کی بروقت ترسیل کے لیے درکار نیٹ ورک کی فراہمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے علاوہ، دیہی علاقوں میں بائیو گیس کے پلانٹس کو مرکزی گرڈ سے جوڑنا اور عوامی سطح پر اس ایندھن کی قبولیت پیدا کرنا بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جاپان کے پاس بائیو گیس ٹیکنالوجی میں مہارت موجود ہے، لیکن بھارت جیسے وسیع اور متنوع ملک میں اس ماڈل کو کامیابی سے نافذ کرنے کے لیے مقامی سطح پر مضبوط شراکت داری اور حکومتی تعاون ناگزیر ہے۔ اگر یہ منصوبہ اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف بھارت کی آٹوموبائل صنعت کے لیے ایک نئی سمت متعین کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثال قائم کرے گا کہ کس طرح زرعی فضلے کو معاشی ترقی اور توانائی کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آنے والے برسوں میں اس منصوبے کی پیشرفت اس بات کا تعین کرے گی کہ کیا واقعی گائے کا گوبر اور فصلوں کی باقیات بھارت کی گاڑیوں کے پہیے گھمانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔