Technology
علی بابا کا نیا اے آئی ماڈل: بڑے صارفین کے لیے نئی فیس پالیسی
چینی ٹیک کمپنی علی بابا اپنے اگلے اوپن سورس آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈل کو کمرشل بنیادوں پر پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی حریف کمپنیوں سے مارکیٹ شیئر حاصل کرنا اور منافع کمانے کے ماڈل کو مستحکم کرنا ہے۔
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والی چینی کمپنی علی بابا نے اب اپنے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں ایک اہم کاروباری تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق کمپنی اپنے آنے والے نئے اوپن سورس اے آئی ماڈلز کے لیے بڑے صارفین سے فیس وصول کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ چینی اے آئی کمپنیاں اب محض مارکیٹ میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے بجائے اسے ایک پائیدار کاروباری ماڈل میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اب تک یہ کمپنیاں اپنے ماڈلز کو اوپن سورس کے طور پر مفت پیش کر رہی تھیں جس نے عالمی منڈیوں کو حیران کر دیا تھا، کیونکہ ان کی کارکردگی اوپن اے آئی (OpenAI) اور اینتھروپک (Anthropic) جیسے امریکی اداروں کے ماڈلز کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق علی بابا کی جانب سے یہ حکمت عملی امریکی حریفوں کو ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑنے اور عالمی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے اپنائی جا رہی ہے۔ چینی کمپنیوں نے حال ہی میں جس تیزی سے اے آئی ٹیکنالوجی میں ترقی کی ہے، اس نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔ اوپن سورس ماڈلز کے ذریعے ڈیولپرز اور کمپنیوں کو اپنی ایپس بنانے میں مدد ملی ہے، لیکن اب ان ماڈلز کے بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال سے علی بابا اپنا ریونیو بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اے آئی انڈسٹری اب ابتدائی تجرباتی مرحلے سے نکل کر منافع بخش کاروبار کی طرف گامزن ہے۔
اگرچہ علی بابا کے اوپن سورس ماڈلز کی مقبولیت کی بڑی وجہ ان کی مفت دستیابی تھی، تاہم اب بڑے صارفین کے لیے فیس کا اطلاق اس ماڈل کو مزید پروفیشنل بنائے گا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے علی بابا کی مارکیٹ ویلیو پر مثبت اثر پڑے گا اور کمپنی کو اپنے تحقیقی اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔ اس اقدام سے دیگر چینی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے بھی اسی طرح کے کاروباری ماڈلز متعارف کروانے کی توقع ہے۔ امریکی حریفوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ چینی کمپنیاں اب نہ صرف ٹیکنالوجی بلکہ قیمتوں کے مقابلے میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کر رہی ہیں۔
مستقبل قریب میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بڑے صارفین اس فیس کو قبول کرتے ہیں یا اوپن سورس ماڈلز کے حوالے سے ان کی ترجیحات تبدیل ہوتی ہیں۔ بہرحال، یہ واضح ہے کہ علی بابا کی قیادت میں چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں اے آئی کے عالمی میدان میں ایک نیا محاذ کھولنے کے لیے تیار ہیں۔ کمپنی کی جانب سے باضابطہ اعلانات کے بعد یہ پالیسی ان تمام اداروں کے لیے لاگو ہو جائے گی جو علی بابا کے ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر پر انحصار کرتے ہیں۔