Business
سوئیگی انسٹامارٹ کی منافع بخش حکمت عملی اور مستقبل کے چیلنجز
سوئیگی کا انسٹامارٹ پلیٹ فارم منافع بخش بننے کے لیے 60 ہزار کروڑ روپے کے سالانہ نیٹ آرڈر ویلیو تک پہنچنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ کمپنی کو اس بڑے ہدف کے حصول کے لیے اپنے آرڈرز کی تعداد کو دوگنا کرنے اور منافع کے مارجن کو نمایاں طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔
بھارتی فوڈ ڈلیوری اور کوئیک کامرس کمپنی سوئیگی (Swiggy) کا ذیلی ادارہ 'انسٹامارٹ' ایک بڑے مالیاتی سنگ میل کو عبور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ کمپنی نے 60 ہزار کروڑ روپے کے سالانہ نیٹ آرڈر ویلیو (NOV) کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ اپنے آپریشنز کو منافع بخش بنایا جا سکے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے کمپنی کو اپنی موجودہ سیلز میں تیزی سے اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپریشنل اخراجات کو بھی مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ہدف تک پہنچنے کے لیے سوئیگی کو اپنے آرڈرز کی تعداد کو موجودہ سطح سے دوگنا کرنا ہوگا۔
اس حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو کنٹری بیوشن مارجن (contribution margin) میں بہتری لانا ہے۔ سوئیگی کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی قیمتوں میں رعایت (discounts) دیے بغیر کس طرح گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ رکھ سکتا ہے۔ ماضی میں کوئیک کامرس کمپنیوں کے درمیان قیمتوں کی جنگ نے مارکیٹ کو گرما دیا تھا، لیکن اب سرمایہ کار منافع پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ لہٰذا، انسٹامارٹ کو ایسی حکمت عملی اپنانی ہوگی جہاں وہ اپنے ڈلیوری نیٹ ورک کو بہتر بنائے اور گاہکوں کو معیار اور رفتار کے ذریعے برقرار رکھے۔
مزید برآں، سوئیگی کو اپنی سپلائی چین اور انوینٹری مینجمنٹ میں مزید شفافیت لانی ہوگی تاکہ فضلہ (wastage) کو کم کیا جا سکے۔ کوئیک کامرس کے میدان میں مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے، جہاں زپٹو (Zepto) اور بلنکٹ (Blinkit) جیسی کمپنیاں پہلے ہی جارحانہ انداز میں مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سوئیگی کے لیے یہ ایک کٹھن امتحان ہے کہ وہ اپنی مارکیٹ کی پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے کس طرح ان بڑے اہداف کو حاصل کرتا ہے۔ کمپنی کا مستقبل اسی بات پر منحصر ہے کہ وہ آپریشنل کارکردگی اور گاہکوں کے اطمینان کے درمیان توازن کیسے قائم کرتی ہے۔
آخر میں، یہ کہنا درست ہوگا کہ 60 ہزار کروڑ روپے کا ہدف کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ اگر سوئیگی اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ پورے کوئیک کامرس سیکٹر کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گا۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا سوئیگی اپنی اس کاروباری تبدیلی کے بعد منافع کا سفر شروع کر سکے گا یا اسے مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آنے والے مہینوں میں کمپنی کی کارکردگی ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ وہ کس حد تک اس بڑے مالیاتی ہدف کے قریب پہنچ پاتی ہے۔