Health
ایم آر این اے فلو ویکسین: ضمنی اثرات اور طبی حقائق
موڈرنا کی نئی ایم آر این اے فلو ویکسین کے ڈیٹا سے انکشاف ہوا ہے کہ اس کے ضمنی اثرات روایتی ویکسین کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہسپتال میں داخلے کو روکنے کے لیے ہزاروں افراد کو یہ ویکسین لگانا ایک بڑا طبی چیلنج ہے۔
عالمی سطح پر صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بحث جاری ہے، خاص طور پر ایم آر این اے (mRNA) ٹیکنالوجی پر مبنی نئی فلو ویکسینز کے حوالے سے طبی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ موڈرنا کی جانب سے کی گئی اپنی تحقیق کے مطابق، یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نئی ویکسین کے ضمنی اثرات یا انجری ریٹ روایتی فلو ویکسینز کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔ تحقیق سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایک ہسپتال میں داخل ہونے والے مریض کو بچانے کے لیے تقریباً 5,000 نئی ویکسینز کا استعمال کرنا پڑتا ہے، جو کہ طبی لحاظ سے ایک تشویشناک تناسب سمجھا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر دواسازی کی صنعت کے ماہر صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایف ڈی اے (FDA) کی جانب سے ان ویکسینز کی منظوری کے عمل میں مبینہ طور پر صنعت کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ادارے سے اعلیٰ معیار کے حامل عہدیداروں کے نکل جانے کے بعد، دوا ساز کمپنیوں نے ریگولیٹری باڈی پر دوبارہ اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس کی وجہ سے ویکسین کی منظوری اور حفاظت کے معیار پر سمجھوتہ کیے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہ صورتحال عوامی حلقوں میں اس سوال کو جنم دے رہی ہے کہ کیا ایم آر این اے ٹیکنالوجی واقعی روایتی ویکسینز کا ایک محفوظ متبادل ہے یا اس میں تجارتی مفادات کو انسانی تحفظ پر فوقیت دی جا رہی ہے۔
طبی برادری کا ایک بڑا حصہ اب یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ان نئی ویکسینز کے طویل مدتی اثرات کا مزید باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ اگرچہ ایم آر این اے ٹیکنالوجی نے کووڈ-19 کے دوران تیزی سے ویکسین کی تیاری میں مدد کی تھی، تاہم موسمی فلو کے لیے اس کا وسیع پیمانے پر استعمال اب کئی اخلاقی اور سائنسی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ خاص طور پر 'انجری ریٹ' میں اضافہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ عام شہریوں کو ان ویکسینز کے استعمال سے قبل مکمل طبی آگاہی اور رسک فیکٹرز سے متعلق شفاف معلومات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید طبی رپورٹس کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا صحت کے ادارے اس ٹیکنالوجی کی جانچ کے معیارات کو دوبارہ سخت کریں گے یا نہیں۔