LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور امریکہ سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

News Image
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ تہران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول برقرار ہے اور وہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتا۔ تہران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کا وقت اور فیصلہ صوابدیدی طور پر ایران کے ہاتھ میں ہے۔
تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی اور بمباری روکنے کے اعلانات کے باوجود ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اب بھی برقرار ہے اور وہ اسٹریٹجک امور پر کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے براہ راست یا بلاواسطہ مذاکرات زیر غور نہیں ہیں۔ تہران کا موقف ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ امریکہ یا کوئی اور طاقت نہیں کرے گی بلکہ اس کا انحصار زمینی حقائق اور ایرانی دفاعی حکمت عملی پر ہے۔ ایرانی حکام نے خلیجی ممالک کو بھی تنبیہ کی ہے کہ وہ تنازع میں فریق بننے سے گریز کریں، ورنہ اس کے سنگین علاقائی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی اگرچہ عارضی طور پر تھمتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے لیکن بنیادی تزویراتی تناؤ بدستور برقرار ہے۔ ایران نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی بیرونی طاقت کو امن و جنگ کے فیصلے مسلط کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس پر ایرانی کنٹرول کا دعویٰ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب، امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔