LIVE
Loading Breaking News...

الیکشن کمیشن آف پاکستان: اراکین اسمبلی کے اثاثوں کی جانچ کے اختیارات میں توسیع

News Image
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پارلیمنٹیرینز کے سالانہ گوشواروں کی براہ راست تصدیق اور جانچ پڑتال کیلئے قانون میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ مالی گوشواروں کی درستگی کو یقینی بنانے کیلئے مزید قانونی اختیارات ناگزیر ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے ملک کے قانون سازوں کی جانب سے جمع کرائے جانے والے اثاثوں کے گوشواروں کی موثر جانچ پڑتال اور تصدیق کے عمل کو مزید شفاف بنانے کیلئے حکومت سے نئے قانونی اختیارات کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کا یہ اقدام اس ضرورت کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے کہ عوامی نمائندوں کے مالی اثاثوں میں کسی بھی قسم کی تضاد کی صورت میں اسے فوری طور پر پکڑا جا سکے اور جوابدہی کا عمل شفاف بنایا جا سکے۔ موجودہ قوانین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس اثاثوں کی تصدیق کے حوالے سے محدود اختیارات ہیں، جس کے باعث اکثر اوقات گوشواروں میں ظاہر کی گئی معلومات کی درستگی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اس نئے مطالبے کے تحت الیکشن کمیشن چاہتا ہے کہ اسے قانون سازوں کے مالی گوشواروں کی براہ راست تصدیق کرنے کا قانونی حق حاصل ہو، تاکہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اعداد و شمار کی جانچ کر سکے۔ کمیشن کا موقف ہے کہ قانون میں ترمیم کے بعد جب وہ اثاثوں کی چھان بین کے بااختیار ادارے کے طور پر سامنے آئے گا تو پارلیمنٹیرینز کے اندر مالی نظم و ضبط میں بہتری آئے گی۔ یہ عمل نہ صرف سیاسی شفافیت کے ایجنڈے کو فروغ دے گا بلکہ عوام کا اپنے نمائندوں پر اعتماد بھی بحال کرے گا۔ ای سی پی کی جانب سے یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں احتساب کے عمل کو سخت اور غیر جانبدار بنانے کی بحث زوروں پر ہے۔ یاد رہے کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی تمام ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو پابند کر چکا ہے کہ وہ اپنے سالانہ اثاثوں کی تفصیلات ہر سال 31 دسمبر تک جمع کرائیں۔ تاہم، محض گوشوارے جمع کرانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ ان گوشواروں میں دی گئی تفصیلات کی جانچ پڑتال الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہونی چاہیے۔ ماہرین قانون کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اس تجویز کو منظور کرتی ہے اور ای سی پی کو یہ خصوصی اختیارات تفویض کیے جاتے ہیں، تو پاکستان میں سیاسی مالیات کے شعبے میں ایک بڑا انقلابی قدم ثابت ہوگا۔ اس سے اثاثوں کی چھپانے کی روایت کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور عوامی نمائندوں کیلئے اپنے مالی معاملات کو شفاف رکھنا لازم قرار پائے گا۔