LIVE
Loading Breaking News...

عالمی اسٹاک مارکیٹ اور ڈالر کا موجودہ رجحان: جابز رپورٹ کے اثرات

News Image
عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی لیبر مارکیٹ کی نئی رپورٹ کے منتظر سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں امریکی انڈیکسز میں بہتری دیکھی گئی جس کے بعد عالمی مارکیٹوں کا رخ اب جابز ڈیٹا پر مرکوز ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت سرمایہ کاروں کی توجہ مکمل طور پر امریکہ کی جانب سے جاری ہونے والی نئی نان فارم پے رول (نان فارم جابز) رپورٹ پر مرکوز ہے۔ اس اہم رپورٹ سے قبل عالمی اسٹاک مارکیٹیں اور امریکی ڈالر کی قدر میں ایک خاص قسم کا استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملازمتوں کے اعداد و شمار امریکی فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی مانیٹری پالیسی کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے، یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ایک محتاط رویہ نمایاں ہے۔ گزشتہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر امریکی اسٹاک مارکیٹ نے ایک مثبت رجحان کا مظاہرہ کیا۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس ریکارڈ بلندیوں پر بند ہوا، جس نے اپریل کے بعد سے اپنی مضبوط ترین ہفتہ وار کارکردگی ریکارڈ کروائی۔ اسی طرح ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں بھی 0.28 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ نیس ڈیک انڈیکس نے ٹیکنالوجی سیکٹر میں تیزی کی بدولت سبقت حاصل کی، جس نے عالمی سطح پر دیگر مارکیٹوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ماحول پیدا کیا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی معیشت میں سرمایہ کاروں کا اعتماد فی الحال برقرار ہے۔ دوسری جانب توانائی کے شعبے میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کبھی اوپر تو کبھی نیچے کی جانب گامزن ہیں، جس کی بڑی وجہ عالمی طلب اور رسد کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی معاشی رپورٹ کے اثرات تیل کی منڈیوں پر بھی براہ راست مرتب ہوں گے۔ اگر امریکی جابز ڈیٹا توقعات سے زیادہ مضبوط رہتا ہے تو یہ عالمی معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی علامت ہوگا، جس سے تیل کی طلب میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ فی الحال عالمی مارکیٹوں میں سرمایہ کار کسی بھی بڑی حرکت سے قبل نئی معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ڈالر انڈیکس اپنی موجودہ سطح پر مستحکم ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء کسی بڑے معاشی بحران یا غیر متوقع جھٹکے کے بجائے محتاط انداز میں اپنے اثاثوں کو منظم کر رہے ہیں۔ آنے والے چند دن عالمی مالیاتی نظام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ اعداد و شمار نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔