Business
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی اور معاشی صورتحال کا تازہ ترین جائزہ
پاکستان میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.28 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مہنگائی 9.29 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے 17 مختلف شہروں میں 20 ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
پاکستان میں معاشی صورتحال کے حوالے سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق مختصر مدت کی مہنگائی کی شرح میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.29 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہفتہ وار بنیادوں پر 'سینسٹیو پرائس انڈیکس' (SPI) پر مبنی مہنگائی میں 0.28 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار ملک کے 17 مختلف شہروں سے جمع کیے گئے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عام صارفین کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی کی اس لہر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جولائی کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح 9.2 فیصد رہی تھی۔ اگرچہ حکومت مختلف اقدامات کے ذریعے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 20 سے زائد ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس نے متوسط اور نچلے طبقے کے بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور عالمی منڈی میں قیمتوں کا اثر مقامی سطح پر اشیاء کی دستیابی اور قیمتوں پر نمایاں ہے۔ خاص طور پر سبزیوں، دالوں اور دیگر بنیادی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہفتہ وار انڈیکس کو اوپر لے جانے کا سبب بنا ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی سطح پر شہریوں کو ابھی تک ریلیف کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو مہنگائی کی یہ شرح مزید بلند ہو سکتی ہے، جس سے عوام کی قوت خرید پر مزید دباؤ پڑے گا۔