LIVE
Loading Breaking News...

کیف پر روسی حملہ: ایک بچہ ہلاک، یوکرین کے میزائل ذخیرے میں کمی

News Image
یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب رات کے وقت کیے گئے روسی میزائل حملوں میں ایک بچے سمیت تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے پاس میزائل انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف کے نواحی علاقوں میں روس کی جانب سے رات کے وقت کیے گئے شدید میزائل حملوں میں ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام اور ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب روس نے یوکرین کے مختلف شہروں پر اپنے فضائی حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے، جس سے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بین الاقوامی برادری اور اپنے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے پاس میزائل انٹرسیپٹرز (جوابی میزائل) کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یوکرین کو فوری طور پر فضائی دفاعی مدد فراہم نہ کی گئی تو یوکرین کے شہروں کو روسی حملوں سے بچانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ صدر زیلنسکی نے بارہا مغربی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ترین میزائل سسٹم اور دیگر دفاعی آلات کی فراہمی میں تیزی لائیں۔ ماہرین کے مطابق روس کی جانب سے یہ حملے یوکرین کے دفاعی انفراسٹرکچر کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہیں تاکہ یوکرین کے بڑے شہروں کو غیر محفوظ بنایا جا سکے۔ یوکرینی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے دفاعی نظام نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا تاہم کچھ میزائل آبادی والے علاقوں میں گرے جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے یوکرین میں حکومتی اور دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ آنے والے دنوں میں روس اپنی جارحیت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے، تاہم تاحال کسی بھی بڑی جنگ بندی کی امید نظر نہیں آ رہی۔ یوکرین کے عوام اب بھی شدید سردی اور مسلسل حملوں کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اس تنازعے کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن فریقین کے درمیان پائے جانے والے شدید اختلافات کے باعث امن کا قیام تاحال ایک دور کی بات محسوس ہوتا ہے۔ آنے والے دن یوکرین کے لیے دفاعی لحاظ سے انتہائی کٹھن ثابت ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب ملک کا میزائل ڈیفنس سسٹم دباؤ کا شکار ہے۔