LIVE
Loading Breaking News...

کیف پر روسی حملہ: بچے سمیت تین شہری ہلاک، عالمی ردعمل

News Image
یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی سینیٹ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی منظوری دی ہے۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف کے نواحی علاقوں میں روسی فوج کی جانب سے شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں، ہلاک ہونے والوں میں ایک معصوم بچہ بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ حملہ صبح سویرے کیا گیا جس نے رہائشی علاقوں کو بری طرح متاثر کیا۔ مقامی ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کی، تاہم ہلاکتوں کی تصدیق کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب یوکرین کی جانب سے بین الاقوامی برادری سے بار بار یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسے فضائی دفاعی نظام (ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز) فراہم کیے جائیں تاکہ شہریوں کو روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جدید دفاعی آلات کی کمی ہے جس کی وجہ سے دشمن کے حملوں کو روکنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کیف نے اپنے اتحادی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں فوری مدد کریں۔ دوسری جانب اس حملے کے چند گھنٹوں بعد امریکی سینیٹ نے روس کے خلاف پابندیوں کے ایک نئے پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد روس کی معاشی اور عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے تاکہ وہ یوکرین کے خلاف اپنی جنگی مہم جاری نہ رکھ سکے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ تاہم روس کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی فوجی کارروائیوں کو جائز قرار دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ موجودہ صورتحال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر جنگ بندی کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یوکرین کو جلد جدید دفاعی نظام فراہم نہیں کیا گیا تو عام شہریوں کے جانی نقصان کا یہ سلسلہ مزید طویل ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دیں اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی ذرائع کا استعمال کریں۔