Pakistan
ہنگو آپریشن: کیپٹن حمزہ اکرم شہید، سات دہشت گرد ہلاک
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد مارے گئے جبکہ کیپٹن حمزہ اکرم نے جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ دہشت گردوں نے فرار ہوتے ہوئے مسجد کی آڑ لی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں انہیں جہنم واصل کر دیا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایک اہم آپریشن کیا جس کے دوران فتنہ الخوارج کے سات دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا، جبکہ اس کارروائی میں پاک فوج کے ایک بہادر افسر کیپٹن حمزہ اکرم نے جام شہادت نوش کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو ہنگو کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملی تھی، جس پر فوری کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا گھیراؤ کیا تو انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی اور مسجد کی مقدس عمارت میں پناہ لے لی۔ دہشت گردوں نے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عبادت گاہ کے تقدس کو پامال کیا، تاہم فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ساتوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
اس آپریشن کی قیادت کرنے والے 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم کا تعلق ضلع نارووال سے تھا۔ وہ اپنی دستے کے ہمراہ فرنٹ لائن پر دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے کہ اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں انہوں نے مادر وطن پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ ترجمان آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔ علاقے میں کسی بھی دوسری ممکنہ دہشت گردی کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیپٹن حمزہ اکرم کی شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید افسر نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ کارروائی خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس میں سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ ایک روز قبل بھی سیکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں آٹھ جبکہ ضلع دیر میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس کے علاوہ بنوں کے علاقے جانی خیل میں ایک الگ کارروائی میں فتنہ الخوارج کا ایک اہم کمانڈر جامی اللہ بھی مارا گیا، جو کوئڈ کاپٹر چلانے میں ماہر سمجھا جاتا تھا۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جولائی کا مہینہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور پرتشدد واقعات کے حوالے سے انتہائی بھاری رہا ہے۔ ملک بھر میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت دو سو سے زائد افراد کی شہادتیں ان دہشت گرد عناصر کے خلاف جاری جنگ کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ پاک فوج کا عزم ہے کہ جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، یہ آپریشن اسی طرح پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے تاکہ ملک میں امن و امان کا قیام یقینی بنایا جا سکے۔