Business
فٹ ویئر انڈسٹری میں جدت اور حکومتی اقدامات: وزیر ٹیکسٹائل کی خصوصی ہدایت
وفاقی وزیر گریراج سنگھ نے جوتوں کی صنعت میں تکنیکی ٹیکسٹائل کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے مینوفیکچررز کو حکومتی سہولیات سے بھرپور استفادہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مسابقت میں رہنے کے لیے تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کو اپنانا ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر برائے ٹیکسٹائل گریراج سنگھ نے جمعرات کے روز ایک اہم بیان میں فٹ ویئر انڈسٹری پر زور دیا ہے کہ وہ تکنیکی ٹیکسٹائل کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اپناتے ہوئے اپنی مصنوعات میں جدت پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جوتوں کی تیاری میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ صرف معیار کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی اور مقامی مصنوعات کی مسابقت کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ وزیر موصوف نے مینوفیکچررز پر زور دیا کہ وہ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے مختلف اقدامات اور ترقیاتی اسکیموں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
اس موقع پر انہوں نے نشاندہی کی کہ موجودہ دور میں روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید اور پائیدار مواد کی ضرورت ہے، جس میں تکنیکی ٹیکسٹائل ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے صنعت کاروں سے اپیل کی کہ وہ تحقیق اور ترقی (R&D) میں سرمایہ کاری کریں تاکہ ایسی مصنوعات تیار کی جا سکیں جو نہ صرف آرام دہ ہوں بلکہ پائیدار بھی ہوں۔ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مراعات کا مقصد صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ فٹ ویئر انڈسٹری ملک کی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ صنعت کاروں کو چاہیے کہ وہ اپنی پیداواری زنجیر میں جدید ٹیکنالوجی کو ضم کریں تاکہ برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے اور بین الاقوامی سطح پر 'میڈ ان انڈیا' یا مقامی برانڈز کی ساکھ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
آخر میں، انہوں نے صنعت سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو متحد ہو کر کام کرنے کی ترغیب دی تاکہ شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ تکنیکی ٹیکسٹائل کا استعمال جہاں مصنوعات کی لاگت میں کمی لا سکتا ہے، وہیں یہ ڈیزائننگ اور پائیداری کے حوالے سے نئے امکانات کے دروازے بھی کھولتا ہے۔ وزیر کا یہ بیان صنعت کاروں کے لیے ایک روڈ میپ کی حیثیت رکھتا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر وہ اپنی صلاحیتوں کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔