LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان شرح سود برقرار، ایران جنگ کے اثرات پر معاشی نظر

News Image
مڈل ایسٹ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے ممکنہ خطرات کے تناظر میں پاکستان نے اپنی کلیدی شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
عالمی سطح پر خصوصاً مشرق وسطیٰ میں ایران اور خطے کی دیگر طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے मंडلاتے ہوئے بادلوں کے تناظر میں پاکستان نے اپنی کلیدی شرح سود کو برقرار رکھنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے کا بنیادی مقصد معیشت میں کسی بھی قسم کے ہنگامی جھٹکوں سے بچنا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملکی درآمدات پر پڑتا ہے۔ پاکستان کی معاشی ٹیم اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ تجارتی خسارے کو قابو میں رکھا جا سکے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ایران کے اردگرد جاری بحران نے دنیا بھر کے مالیاتی بازاروں کو غیر مستحکم کر دیا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے مانیٹری پالیسی کو محتاط رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ مرکزی بینک اور متعلقہ مالیاتی اداروں کا ماننا ہے کہ اس مرحلے پر شرح سود میں کسی بھی قسم کی اچانک تبدیلی افراط زر کو مزید ہوا دے سکتی ہے، اس لیے موجودہ سطح پر شرح کو برقرار رکھنا ہی دانشمندی کا تقاضا ہے۔ دوسری جانب، تجارتی حلقوں اور صنعتی شعبے کی جانب سے بھی اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مستحکم شرح سود سے کاروباری منصوبہ بندی میں کچھ حد تک آسانی ہوتی ہے، لیکن عالمی جنگی صورتحال کے باعث پیداواری لاگت اور درآمدی توانائی کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ حکومت اور اقتصادی پالیسی ساز ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح مقامی مارکیٹ کو بیرونی معاشی دھچکوں سے محفوظ رکھا جائے اور عوام کو مہنگائی کے اضافی بوجھ سے بچایا جائے۔