Technology
مائیکروسافٹ کا بھارت میں نیا کلاؤڈ ریجن حیدرآباد میں قائم
مائیکروسافٹ نے بھارت میں اپنا چوتھا ہائپر اسکیل کلاؤڈ ریجن حیدرآباد میں فعال کر دیا ہے، جس کے بعد کمپنی ملک بھر میں سب سے وسیع کلاؤڈ نیٹ ورک کی حامل بن گئی ہے۔ یہ نیا اقدام ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط کرنے اور مقامی سطح پر کلاؤڈ سروسز کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی بڑی کمپنی مائیکروسافٹ نے اپنے نیٹ ورک کو وسعت دیتے ہوئے بھارت کے شہر حیدرآباد میں اپنا چوتھا نیا کلاؤڈ ریجن قائم کر دیا ہے۔ 'انڈیا ساؤتھ سینٹرل' کے نام سے منسوب اس نئے ریجن کے قیام کے بعد مائیکروسافٹ بھارت میں سب سے بڑی ہائپر اسکیل کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنی بن گئی ہے۔ اس سے قبل کمپنی پونے، چنئی اور ممبئی میں اپنے تین بڑے کلاؤڈ ریجنز کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کر رہی تھی، اب حیدرآباد میں اس نئے مرکز کے اضافے سے کمپنی کی مقامی سطح پر صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد بھارت میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل خدمات کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ جدید دور میں کاروبار، حکومت اور تعلیمی ادارے کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں، اور اس نئے ریجن کے قیام سے مقامی صارفین کو کم لیٹنسی اور بہتر ڈیٹا سیکورٹی فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ مائیکروسافٹ کا ماننا ہے کہ حیدرآباد میں یہ سرمایہ کاری کمپنی کے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو مزید مستحکم کرے گی اور مقامی صنعتوں کے لیے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالٹکس اور کلاؤڈ بیسڈ ایپلی کیشنز تک رسائی کو مزید آسان بنائے گی۔
ماہرین کے مطابق، مائیکروسافٹ کی جانب سے یہ توسیع ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت میں ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر کی مانگ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ چوتھا ریجن نہ صرف کاروباری اداروں کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر کو تیز کرے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی ٹیکنالوجی سیکٹر کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ حیدرآباد، جو پہلے ہی ٹیکنالوجی کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس نئے پروجیکٹ کے بعد عالمی کلاؤڈ سروسز کے نقشے پر مزید نمایاں ہو گیا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے مائیکروسافٹ اپنے ان کلاؤڈ ریجنز کے ذریعے پائیدار ٹیکنالوجی کے اہداف کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ تمام ریجنز ماحول دوست توانائی اور جدید ترین کولنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں تاکہ کاربن کے اخراج کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف مقامی کمپنیوں کو جدید ترین کلاؤڈ سلوشنز ملیں گے بلکہ ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو بھی ایک نئی جہت ملے گی۔