LIVE
Loading Breaking News...

گریجویٹس کے لیے فنی مہارتوں کی اہمیت اور بے روزگاری کا حل

News Image
تعلیمی ماہرین نے ملک میں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر قابو پانے کے لیے روایتی تعلیم کے ساتھ فنی مہارتوں کو لازم قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کو اب نوکری کے متلاشیوں کے بجائے ایسے افراد تیار کرنا ہوں گے جو روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ایک ممتاز تعلیمی ماہر نے حال ہی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ گریجویٹس کی بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا واحد حل فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ میں مضمر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تعلیمی نظام صرف ڈگریاں تقسیم کرنے تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے فارغ التحصیل طلباء مارکیٹ کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ ماہرِ تعلیم کا ماننا ہے کہ اگر طلباء اپنی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ فنی تربیت اور عملی مہارتوں (TVET) کو اپنی شخصیت کا حصہ نہیں بناتے، تو وہ عملی میدان میں پیچھے رہ جائیں گے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نصاب میں ایسے مضامین شامل کریں جو عملی زندگی میں کام آ سکیں اور طلباء کو خود انحصاری سکھا سکیں۔ ماہرِ تعلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹیوں کو اب ایسی فیکٹریاں بننے کی ضرورت ہے جو صرف سرٹیفکیٹس جاری کرنے کے بجائے تخلیقی سوچ رکھنے والے افراد تیار کریں۔ آج کے دور میں کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا انحصار اس بات پر نہیں کہ وہاں کتنے گریجویٹس موجود ہیں، بلکہ اس بات پر ہے کہ ان گریجویٹس میں کتنے افراد ایسے ہیں جو اپنی مہارتوں سے روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ صرف سرکاری یا نجی شعبے کی نوکریوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے کاروبار اور اپنی انفرادی مہارتوں کو نکھارنے پر توجہ دیں۔ اس ضمن میں تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ماہر کا کہنا تھا کہ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر ایسے مراکز قائم کرنے چاہئیں جہاں جدید ٹیکنالوجی، سافٹ سکلز، اور کاروباری مہارتیں سکھائی جائیں۔ جب تک تعلیمی نظام اور انڈسٹری کے درمیان خلیج ختم نہیں ہوگی، بے روزگاری کا جن قابو میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے طلباء کو یہ بھی نصیحت کی کہ وہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو سمجھیں اور ای کامرس، فری لانسنگ، اور دیگر تکنیکی شعبوں میں خود کو اپ ڈیٹ کریں۔ آخر میں، ماہرِ تعلیم نے والدین اور معاشرے سے اپیل کی کہ وہ صرف روایتی پیشوں پر اصرار نہ کریں بلکہ اپنے بچوں کو ایسی مہارتیں سیکھنے کی ترغیب دیں جو انہیں عالمی مارکیٹ میں مسابقتی بنا سکیں۔ بے روزگاری کا خاتمہ ایک قومی ذمہ داری ہے، اور اس کے لیے تعلیمی اداروں، حکومت، اور نوجوانوں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔ اگر آج ہم نے اپنی تعلیمی حکمت عملی میں تبدیلی نہ لائی، تو مستقبل میں معاشی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔