LIVE
Loading Breaking News...

چین-پاکستان مشترکہ لیبارٹری: قدرتی آفات کے خلاف سمارٹ شیلڈ

News Image
چین اور پاکستان نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت بنیادی ڈھانچے کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک جدید مشترکہ لیبارٹری قائم کی ہے۔ یہ منصوبہ زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
بیجنگ میں حال ہی میں ایک اہم پیش رفت کے دوران چین اور پاکستان نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے ایک 'سمارٹ شیلڈ' لیبارٹری کا افتتاح کیا ہے۔ اس لیبارٹری کا بنیادی مقصد بڑے بنیادی ڈھانچوں، جیسے پلوں، شاہراہوں اور ڈیموں کو زلزلوں اور دیگر قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سائنسی و تکنیکی تعاون کی ایک نئی مثال ہے، جس کے تحت جدید ترین سینسرز اور ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال کیا جائے گا تاکہ قدرتی آفات کے خطرات کا بروقت پتہ لگایا جا سکے۔ پاکستان میں ماضی میں آنے والے شدید زلزلوں نے نہ صرف جانی بلکہ بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیبارٹری کے قیام کا خیال ایک ایسی ضرورت سے پیدا ہوا ہے جس کا تجربہ سید شاہ اور ان کی نسل کے دیگر لوگوں نے کیا ہے، جنہوں نے اپنے بچپن میں زلزلے کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ یہ مشترکہ لیبارٹری سائنسی تحقیق اور ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے ایسے جدید سسٹمز پر کام کرے گی جو نہ صرف زلزلے کی لہروں کو بروقت محسوس کر سکیں گے بلکہ ان کے اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے انجینئرنگ کے جدید حل بھی فراہم کریں گے۔ اس منصوبے میں چینی ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پاکستانی انجینئر مل کر کام کریں گے تاکہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں اور دیگر حساس مقامات پر تعمیر ہونے والے بڑے منصوبوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔ یہ سمارٹ سسٹم نہ صرف آفات کے وقت فوری الرٹ جاری کرے گا بلکہ طویل مدتی تعمیراتی منصوبہ بندی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ اس تعاون سے پاکستان کی تعمیراتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں آنے والی قدرتی آفات کے خلاف ملکی انفراسٹرکچر زیادہ لچکدار اور مضبوط بنے گا۔ ماہرین کے مطابق اس لیبارٹری کا قیام خطے میں علاقائی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ چین کی جانب سے فراہم کردہ ٹیکنالوجی اور پاکستان کا زمینی تجربہ مل کر ایک ایسی ڈھال تیار کریں گے جو قدرتی آفات کی صورت میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو نمایاں طور پر کم کر دے گی۔ یہ منصوبہ نہ صرف پاک چین دوستی کا مظہر ہے بلکہ یہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں دونوں ممالک کے عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل کی تعمیر کے لیے پرعزم ہیں۔