Business
امریکہ ایران کشمکش میں کمی: تیل سستا، ڈاؤ جونز میں 500 پوائنٹس کا اچھال
امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی اور حملے رکنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چھ فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس صورتحال سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری آئی ہے اور ڈاؤ جونز انڈیکس میں پانچ سو پوائنٹس کا زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت شدید ہلچل اور مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں عارضی وقفے اور حملے رکنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس مثبت سیاسی و عسکری پیش رفت کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں چھ فیصد سے زائد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو بڑی راحت فراہم کی ہے۔ منڈی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تناؤ کم ہونے کے آثار سے تیل کی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات عارضی طور پر کم ہو گئے ہیں۔تیل کی قیمتوں میں اس کمی کا براہ راست اور فوری اثر وال اسٹریٹ پر پڑا ہے جہاں امریکی حصص بازار میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ڈاؤ جونز انڈیکس (Dow Jones Futures) میں پانچ سو پوائنٹس کا شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ توانائی کے شعبے میں استحکام اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی توقعات ہیں۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں گہری دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے کیونکہ تیل کی گرتی ہوئی قیمتیں عالمی معیشت کے لیے ایک خوش آئند اشارہ مانی جا رہی ہیں۔تاہم، معاشی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈیاں اب بھی انتہائی حساس اور متلاطم صورتحال سے دوچار ہیں۔ اگرچہ اختتامِ ہفتہ پر جھڑپوں میں وقفے نے فوری طور پر مارکیٹ کے اعصاب کو پرسکون کر دیا ہے، لیکن مستقبل میں جغرافیائی سیاسی صورتحال کا رخ کیا ہوگا، اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تجارتی ادارے اور مالیاتی ماہرین اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک تبدیلی سے نمٹا جا سکے۔