LIVE
Loading Breaking News...

کمیونسٹ معیشت اور گروسری کے مسائل: ایک تجزیہ

News Image
گروسری سٹور کا نظام واضح کرتا ہے کہ نظریات سے زیادہ اعداد و شمار اور مارکیٹ کے اصول معیشت کو چلاتے ہیں۔ کمیونسٹ معاشی ماڈل کی ناکامیوں کو عام شہریوں کے لیے اشیائے خوردونوش کی دستیابی اور قیمتوں کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
گروسری سٹور شاید وہ سب سے سخت میدان عمل ہے جہاں سیاسی معیشت کے نظریات کا عملی امتحان ہوتا ہے۔ یہاں شیلف پر سجے سامان کو کسی خاص سیاسی نظریے یا پروپیگنڈے سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ چیک آؤٹ سکینر کسی بھی لیڈر کی تقریر یا تالیوں پر نہیں بلکہ مصنوعات کی قیمتوں اور ان کی فراہمی و طلب کے سخت قوانین پر کام کرتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب ریاستی کنٹرول والے معاشی نظاموں کی بات آتی ہے تو وہ اکثر بنیادی حساب کتاب اور مارکیٹ کے زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس کا خمیازہ عام شہریوں کو خالی شیلفوں اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ کمیونسٹ معاشی ماڈل میں اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ مرکزی منصوبہ بندی کے ذریعے تمام وسائل کو مساوی طور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، تاہم گروسری سٹور کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہ نظریہ ریاضی کے بنیادی اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ جب ریاست قیمتوں کا تعین خود کرتی ہے اور طلب و رسد کے قدرتی توازن کو ختم کر دیتی ہے، تو نتیجہ ہمیشہ قلت اور کالی منڈی کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایک گیلن دودھ یا ڈبل روٹی کی قیمت صرف ایک عدد نہیں ہے، بلکہ یہ اس پوری سپلائی چین کی عکاس ہے جو کسان سے لے کر ٹرانسپورٹ اور ریٹیلر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر اس زنجیر میں کہیں بھی سیاسی مداخلت کی جائے تو پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں جہاں بھی کمیونسٹ نظریات کو سختی سے نافذ کیا گیا، وہاں خوراک کے بحران ایک معمول بن گئے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مارکیٹ کی حرکیات انسانی فطرت اور مسابقت کے تابع ہوتی ہیں۔ جب آپ مارکیٹ سے مقابلے کا عنصر نکال دیتے ہیں تو پیداوار میں جدت اور کارکردگی خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ گروسری سٹور کا کاؤنٹر ان تمام دعووں کا پول کھول دیتا ہے جو کاغذی معاشی منصوبوں میں کیے جاتے ہیں۔ آخر کار، ایک عام صارف کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ملک کا معاشی نظام کس نظریے پر مبنی ہے، اسے صرف اس بات سے سروکار ہوتا ہے کہ اس کی قوت خرید کے مطابق اسے معیاری اشیاء دستیاب ہیں یا نہیں۔ موجودہ دور میں جب دنیا بھر کی معیشتیں چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں، گروسری سٹور کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ جگہ ہمیں سکھاتی ہے کہ معیشت کو چلانے کے لیے نظریات سے زیادہ درست اعداد و شمار اور مارکیٹ کی آزادی ناگزیر ہے۔ جو نظام ریاضی اور اعداد کے سادہ اصولوں کو نہیں سمجھ سکتا، وہ کبھی بھی اپنے عوام کو خوشحالی فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ لہذا، یہ کہنا درست ہوگا کہ گروسری کے اخراجات اور اشیاء کی دستیابی اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سخت گیر نظریات کبھی بھی معیشت کے متبادل نہیں بن سکتے۔