World
جیلوں سے چلنے والے مجرمانہ نیٹ ورک اور قیدیوں کی سرگرمیاں
حال ہی میں سامنے آنے والے ایک ہولناک واقعے نے انکشاف کیا ہے کہ قیدی جیلوں کے اندر سے بھی منظم انداز میں جرائم اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی اور موبائل فون تک رسائی نے جیلوں کے اندر بیٹھے مجرموں کو باہر کی دنیا کے لیے خطرناک بنا دیا ہے۔
گزشتہ ماہ اوڈیون اکاگبوسو نامی ایک شخص کے موبائل فون پر رات گئے ایک دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا جس نے پورے معاشرے میں سکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پیغام مختصر لیکن خوفناک تھا، جس میں لکھا تھا کہ 'کوئی آپ کو قتل کروانا چاہتا ہے۔ ہمیں آپ کو مارنے کے لیے بھیجا گیا تھا، لیکن میں کسی بے گناہ کی جان نہیں لینا چاہتا۔ میری بات مانیں ورنہ میں رحم نہیں کروں گا۔' یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جیلوں کی مضبوط سلاخیں اب مجرموں کو باہر کی دنیا میں جرائم کرنے سے نہیں روک پا رہیں۔ جیل کے اندر بیٹھے مجرم اب جدید ٹیکنالوجی اور غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ موبائل فونز کے ذریعے باہر کی دنیا میں قتل، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کا جال بچھا رہے ہیں۔
ماہرینِ قانون اور تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ جیلوں میں موبائل فون کی موجودگی اب ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ اگرچہ جیل انتظامیہ کی جانب سے مسلسل نگرانی اور تلاشی کے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن مجرمانہ نیٹ ورکس جدید ترین تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے جیل کے اندر سے ہی اپنے بیرونی کارندوں کو ہدایات دیتے ہیں۔ یہ نیٹ ورکس نہ صرف جیل کی حدود کے اندر کام کرتے ہیں بلکہ باہر موجود اپنے گروہوں کے ذریعے شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں۔ اکثر اوقات جیل کے کرپٹ عملے کی ملی بھگت سے یہ سہولیات قیدیوں تک پہنچائی جاتی ہیں، جس سے اصلاحی مراکز خود جرائم کے مرکز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال نے جیل اصلاحات کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ جب قیدی جیل کے اندر رہ کر بھی دھمکی دے سکتے ہیں یا جرائم کا منصوبہ بنا سکتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ عدالتی اور اصلاحی نظام میں کہیں نہ کہیں بڑی خامی موجود ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو اب جیلوں میں سگنل جیمرز، ڈیجیٹل نگرانی کے سخت نظام اور عملے کی سخت جانچ پڑتال جیسے اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر جیلوں کے اندر موجود اس مجرمانہ انفراسٹرکچر کو فوری طور پر ختم نہ کیا گیا، تو یہ صورتحال عام شہریوں کی جان و مال کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کرتی رہے گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا۔