LIVE
Loading Breaking News...

ایف بی آر کی تمباکو سیکٹر میں بے ضابطگیوں پر سینیٹ کمیٹی کا نوٹس

News Image
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے تمباکو سیکٹر میں 1120 ارب روپے کے کنزمپشن سرٹیفکیٹس کے اعداد و شمار میں تضاد پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کمیٹی نے ٹیکس حکام سے معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں تمباکو سیکٹر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور 1120 ارب روپے کے کنزمپشن سرٹیفکیٹس کے اعداد و شمار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر حکام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹیکس محکمے کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار میں تضاد ملک کی معاشی صورتحال کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ اتنی بڑی رقم کے معاملات میں لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ذمہ داران کا تعین کرنا ناگزیر ہے۔ اجلاس کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ ایف آئی اے نے سینیٹ کمیٹی کو رپورٹ پیش کی ہے جس میں 250 ملین روپے مالیت کی سگریٹس کی چوری میں ایف بی آر کے ایک اعلیٰ افسر کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ سینیٹ کمیٹی نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسمگل شدہ سگریٹس کی ضبطگی اور بعد ازاں ان کی چوری کے اس معاملے کی فرانزک تحقیقات کرائی جائیں۔ کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ سگریٹس کی چوری میں ملوث افراد اور محکمے کی ملی بھگت کو بے نقاب کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات مکمل کی جائیں۔ مزید برآں، سینیٹ کمیٹی نے تمباکو سیکٹر میں ہونے والی ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ ارکان کمیٹی کا کہنا تھا کہ ملک میں سگریٹس کی غیر قانونی فروخت سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایف بی آر کا ناقص مانیٹرنگ سسٹم ہے۔ کمیٹی نے ایف بی آر کو حکم دیا کہ وہ تمام کنزمپشن سرٹیفکیٹس کا مکمل آڈٹ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمباکو کمپنیاں قانون کے مطابق ٹیکس ادا کر رہی ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ اگلی میٹنگ میں اس معاملے سے متعلق تمام دستاویزات اور تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے۔ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ قومی دولت کی لوٹ مار میں ملوث کسی بھی سرکاری افسر کو رعایت نہیں دے گی اور اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے پارلیمانی نگرانی جاری رہے گی۔ ٹیکس چوری کے اس معاملے نے ملک میں محصولات کے نظام کی شفافیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن کا جواب دینا اب ایف بی آر کے لیے لازم ہو گیا ہے۔