Business
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی نجکاری کا عمل شروع، بڑے کاروباری گروپ میدان میں
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جس میں فیسکو کے لیے سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی ظاہر کی ہے۔ نجکاری کمیشن کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے 12 سے زائد اظہارِ دلچسپی کی دستاویزات موصول ہوئی ہیں۔
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کا عمل ایک اہم موڑ میں داخل ہو گیا ہے، جس میں فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو فروخت کرنے کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور دلچسپی دیکھنے میں آئی ہے۔ نجکاری کمیشن کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، 12 سے زائد مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار گروپوں نے فیسکو کی نجکاری کے لیے اپنے اظہارِ دلچسپی (EOIs) جمع کروا دیے ہیں۔ یہ پیش رفت ملکی معیشت کی بہتری اور بجلی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری لانے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اس دوڑ میں شامل ہونے والے نمایاں گروپوں میں نیشاد گروپ کا کنسورشیم سرفہرست ہے، جس نے فیسکو کے حصص کی خریداری کے لیے باقاعدہ دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اسی طرح سیفائر فائبرز (Sapphire Fibres) جیسے بڑے صنعتی نام بھی اس نجکاری کے عمل میں پیش پیش ہیں، جو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ بڑے کاروباری ادارے سرکاری کمپنیوں کے انتظام سنبھالنے اور انہیں منافع بخش بنانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ کمپنیاں نہ صرف اپنی مہارت کے ذریعے بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کی خواہشمند ہیں بلکہ ملک میں توانائی کے شعبے کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔
نجکاری کمیشن حکام کے مطابق، یہ عمل شفافیت کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں کارکردگی کو بڑھایا جا سکے۔ فیسکو ملک کی بڑی تقسیم کار کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، اور اس کی نجکاری سے قومی خزانے پر بوجھ کم ہونے کے ساتھ ساتھ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر یہ عمل کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو اس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے اور صنعتی شعبے کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔
آئندہ چند ہفتوں میں مزید قانونی اور مالیاتی جانچ پڑتال کے بعد کامیاب امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا، جس کے بعد مالیاتی بولیوں کا عمل شروع ہوگا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ڈسکوز کی نجکاری کو طویل مدتی معاشی اصلاحات کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔ اس پورے عمل کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے اصول اپنائے جا رہے ہیں، تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔