Sports
فیفا صدر جیانی انفنٹینو مستعفی ہوں، ناروے فیڈریشن کا مطالبہ
ناروے کی فٹ بال فیڈریشن نے فیفا کے موجودہ صدر جیانی انفنٹینو سے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ مطالبہ فٹ بال کی عالمی تنظیم میں جاری تنقید اور انتظامی امور پر عدم اطمینان کے بعد سامنے آیا ہے۔
ناروے کی فٹ بال فیڈریشن نے باضابطہ طور پر فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ اس مطالبے نے بین الاقوامی فٹ بال کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نارویجن فٹ بال حکام کا ماننا ہے کہ فیفا کی موجودہ قیادت کے تحت تنظیم کے وقار اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ ناروے کا یہ موقف عالمی سطح پر کھیلوں کی انتظامیہ میں جوابدہی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فیفا کے معاملات چلانے کے لیے ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو عالمی فٹ بال کے وسیع تر مفادات کو ذاتی یا سیاسی ترجیحات سے بالاتر رکھ سکے۔ ناروے نے طویل عرصے سے فیفا کے اندر اصلاحات کی حمایت کی ہے اور انفنٹینو کی پالیسیوں پر مسلسل عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فٹ بال کے عالمی کھیل میں شفافیت لانے اور بدعنوانی کے خدشات کو ختم کرنے کے لیے ایک نئی سمت درکار ہے جو موجودہ صدر کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں دکھائی دیتی۔
واضح رہے کہ جیانی انفنٹینو 2016 سے فیفا کے صدر کے عہدے پر فائز ہیں، اور ان کے دور میں تنظیم کو کئی متنازعہ معاملات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ فیفا کی جانب سے ناروے کی فیڈریشن کے اس مطالبے پر فوری طور پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم فٹ بال کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس طرح کے مطالبات دیگر یورپی ممالک کی فیڈریشنوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتے ہیں۔ ناروے نے اپنے اس سخت موقف کے ذریعے عالمی فٹ بال کی باگ ڈور سنبھالنے والے افراد پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا دیگر ممالک کی فٹ بال تنظیمیں بھی ناروے کی حمایت میں سامنے آتی ہیں یا نہیں۔ فیفا کی انتظامیہ کو اب عالمی سطح پر اپنی ساکھ بچانے کے لیے سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ ناروے فٹ بال فیڈریشن کا یہ قدم فٹ بال کی دنیا میں حکمرانی اور اخلاقیات کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اب رکن ممالک کی جانب سے براہ راست قیادت کو نشانہ بنانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی کھیلوں کے اداروں میں احتساب کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔