Politics
مودی سرکار کے خلاف منفرد کاکروچ احتجاجی تحریک
بھارت میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی مزاحمت کا ایک نیا اور منفرد انداز سامنے آیا ہے جس میں مظاہرین نے کاکروچ کے علامتی استعمال سے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر شدید دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
بھارت میں حالیہ عرصے کے دوران حکومتی پالیسیوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے طرزِ حکمرانی کے خلاف ایک منفرد اور حیران کن احتجاجی تحریک نے جنم لیا ہے، جسے مبصرین ’کاکروچ‘ احتجاجی تحریک کا نام دے رہے ہیں۔ یہ احتجاجی مہم اس وقت شروع ہوئی جب حزب اختلاف اور سماجی کارکنوں نے حکومتی ناکامیوں اور عوامی مسائل سے نمٹنے میں بے حسی پر تنقید کے لیے کاکروچ کے استعارے کا استعمال کیا۔ اس تحریک کا مقصد حکومتی ایوانوں میں موجود مبینہ کرپشن، سستی اور عوامی مشکلات پر مٹی ڈالنے کے رویے کو بے نقاب کرنا ہے۔ سوشل میڈیا اور زمینی سطح پر جاری اس مہم نے عوام میں کافی مقبولیت حاصل کر لی ہے، جس سے مودی سرکار کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاجی طریقہ کار روایتی دھرنوں اور جلسے جلوسوں سے مختلف ہے، جس کی وجہ سے حکومتی مشینری بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ کاکروچ کو ایک ایسی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو ہر جگہ موجود ہونے کے باوجود سماج اور انتظامیہ کے لیے ایک ناپسندیدہ اور زہریلی شے سمجھی جاتی ہے۔ اس تحریک کے ذریعے کارکنان یہ پیغام دے رہے ہیں کہ حکومتی پالیسیاں ملک کے لیے اسی طرح نقصان دہ ہیں جس طرح ایک حشرات الارض کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس احتجاج کو دبانے کے لیے کیے گئے اقدامات نے الٹا اس تحریک کو مزید ہوا دی ہے، کیونکہ عوام اب زیادہ شدت کے ساتھ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
مودی حکومت پر تنقید کرنے والوں کا یہ ماننا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارت کے سیاسی ماحول میں عوامی رائے کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے، اس کا ردعمل اب اس طرح کے علامتی احتجاج کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ اگرچہ حکومت نے اس تحریک کو سنجیدگی سے لینے سے گریز کیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک مودی سرکار کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کا ایک عکاس بن چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ احتجاجی تحریک ملکی سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا حکومتی دباؤ اسے کسی حد تک محدود کر دے گا۔ بہرحال، یہ بات طے ہے کہ اس منفرد احتجاج نے مودی سرکار کی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے اور حکومت کے لیے عوامی حلقوں میں اپنا دفاع کرنا مشکل بنا دیا ہے۔