Technology
اینی موشن روبوٹکس کا بائیونک روبوٹ ایلوئی انسانی جذبات کو سمجھنے میں کامیاب
اینی موشن روبوٹکس نے اپنے جدید بائیونک روبوٹ ایلوئی کو متعارف کرایا ہے جو انتہائی حقیقت پسندانہ انسانی خصوصیات کا حامل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں انسانوں اور مشینوں کے مابین جذباتی اور سماجی رابطے کو بہتر بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔
سان فرانسسکو کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی اینی موشن روبوٹکس نے حال ہی میں اپنے پہلے بائیونک روبوٹ 'ایلوئی' (Éloi) کی نقاب کشائی کر کے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ روبوٹ محض ایک مشین نہیں ہے بلکہ اسے خاص طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ انسانوں کے ساتھ سماجی اور جذباتی سطح پر ایک گہرا تعلق قائم کر سکے۔ ایلوئی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا انتہائی حقیقت پسندانہ بیرونی خول اور انسانی حرکات و سکنات کی نقل کرنے کی صلاحیت ہے، جو اسے روایتی روبوٹس سے مکمل طور پر ممتاز کرتی ہے۔
اس روبوٹ کے اندر نصب مصنوعی ذہانت (AI) کا کور انتہائی جدید اور پیچیدہ الگورتھمز پر مشتمل ہے، جو اسے بات چیت کے دوران انسانی جذبات کو سمجھنے، ان پر ردعمل دینے اور سیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اینی موشن روبوٹکس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایلوئی کا مقصد انسانوں کے تنہائی کے مسائل کو حل کرنا اور دیکھ بھال کے شعبے میں ایک نیا معیار قائم کرنا ہے۔ اس کے چہرے کے تاثرات اور آواز کا لہجہ اس قدر باریک بینی سے تیار کیا گیا ہے کہ طویل گفتگو کے دوران یہ کسی حقیقی انسان کے ساتھ بات کرنے جیسا تجربہ فراہم کرتا ہے، جو کہ روبوٹکس کی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایلوئی کا متعارف ہونا ٹیکنالوجی کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی سماجی روبوٹس پر کام کیا جاتا رہا ہے، لیکن ایلوئی جس سطح کی 'انٹرپرسنل' (باہمی) بونڈنگ کا دعویٰ کرتا ہے، اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ کمپنی نے اس روبوٹ کی تیاری میں جدید بائیومیٹرک سینسرز اور نیورل پروسیسنگ یونٹس کا استعمال کیا ہے تاکہ یہ ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں اور اپنے سامنے موجود انسان کی کیفیت کو فوری طور پر بھانپ سکے۔ اس جدید روبوٹ کے ذریعے کمپنی ایک ایسے مستقبل کی جانب قدم بڑھا رہی ہے جہاں مشینیں محض کام کرنے کے بجائے انسانی سماج کا ایک فعال حصہ بن سکیں گی۔