LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کا مشترکہ جنگلات آگ بجھانے کا منصوبہ

News Image
انڈونیشیا اور جنوبی کوریا نے جنوبی سماٹرا میں جنگلات اور زمین پر لگنے والی آگ کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک جدید انتظامی مرکز کے قیام کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کا حصہ ہے۔
انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کی حکومتیں جنوبی سماٹرا میں 'فارسٹ اینڈ لینڈ فائر مینجمنٹ سینٹر' کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ یہ اہم منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تعاون کا نتیجہ ہے، جس کا بنیادی مقصد جنگلات اور زرعی زمینوں پر لگنے والی آگ کے تباہ کن واقعات کو کم کرنا اور ان پر بروقت قابو پانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس جدید مرکز کے ذریعے آگ بجھانے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے آگ لگنے کے خطرات کی پیشگی اطلاع بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس منصوبے کے تحت جنوبی کوریا نہ صرف مالی معاونت فراہم کر رہا ہے بلکہ تکنیکی مہارت اور جدید آلات کی فراہمی میں بھی انڈونیشیا کی مدد کر رہا ہے۔ انڈونیشیا، جہاں ہر سال خشک موسم کے دوران جنگلات میں لگنے والی آگ ایک بڑا ماحولیاتی چیلنج بن جاتی ہے، اس تعاون کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس مرکز کا قیام نہ صرف انڈونیشیا کے جنگلات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ علاقائی سطح پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ شراکت داری موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف لڑنے کے عالمی عزم کا حصہ ہے۔ جنوبی کوریا کی جانب سے فراہم کردہ جدید نگرانی کے نظام اور تربیت یافتہ عملہ اس مرکز کی فعالیت کو یقینی بنائے گا۔ منصوبہ بندی کے مطابق، یہ مرکز ابتدائی طور پر جنوبی سماٹرا کے متاثرہ علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا اور بعد ازاں اس کے تجربات کو انڈونیشیا کے دیگر خطوں میں بھی لاگو کیا جا سکے گا۔ اس پیش رفت کو ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں انڈونیشیا اور جنوبی کوریا کے مابین تعلقات میں ایک نیا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتِ انڈونیشیا اس بات پر پرعزم ہے کہ جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر تیار کیا جانے والا یہ مرکز مستقبل میں جنگلات کی آگ کے واقعات کو روکنے کے لیے ایک ماڈل کے طور پر کام کرے گا۔ دونوں ممالک کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور بروقت جوابی کارروائی ہی جنگلات کو محفوظ بنانے کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔ اس منصوبے کے عملی جامہ پہننے سے نہ صرف مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ ان قیمتی جنگلات کو بھی بچایا جا سکے گا جو خطے کی حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔