Technology
ٹیسلا ایف ایس ڈی سسٹم: یورپی ریگولیٹرز ڈیٹا کیوں خفیہ رکھ رہے ہیں؟
نیدرلینڈز کی جانب سے ٹیسلا کے خودکار ڈرائیونگ سسٹم کی منظوری کے باوجود اس کی سیکیورٹی تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ یورپی یونین میں اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ پر سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ ریگولیٹرز عوامی دباؤ کے باوجود ڈیٹا شیئر کرنے سے انکاری ہیں۔
ٹیسلا کے 'فل سیلف ڈرائیونگ' (FSD) سسٹم کے گرد تنازعات کا دائرہ مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔ چار ماہ قبل نیدرلینڈز کی روڈ اتھارٹی 'آر ڈی ڈبلیو' (RDW) نے ٹیسلا کے خودکار ڈرائیونگ سسٹم کی منظوری دی تھی، جس کے بعد سے نیدرلینڈز یورپی یونین کے دیگر ممالک میں بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانے کی وکالت کر رہا ہے۔ تاہم، اس منظوری کے باوجود، متعلقہ ادارے ان تکنیکی وجوہات کو ظاہر کرنے سے انکاری ہیں جن کی بنیاد پر اس سسٹم کو محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ ڈیٹا تک رسائی دی جائے تاکہ سڑکوں پر اس کی فعالیت کی شفافیت کو جانچا جا سکے، لیکن ریگولیٹرز اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیسلا کی جانب سے مارکیٹ میں اپنے اثر و رسوخ کے باعث یورپی ریگولیٹرز دباؤ کا شکار ہیں۔ نیدرلینڈز کا ادارہ آر ڈی ڈبلیو، جس نے اس سسٹم کو گرین سگنل دیا تھا، کسی بھی ایسی رپورٹ کو عام کرنے سے گریز کر رہا ہے جو ٹیسلا کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہو۔ یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب دنیا بھر میں خودکار ڈرائیونگ سسٹم کی حفاظت اور حادثات کی شرح پر گہری تحقیق جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم واقعی محفوظ ہے تو اس کے اعداد و شمار کو خفیہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے، اور یہ رازداری خود بخود ٹیکنالوجی کی ساکھ پر شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔
دوسری جانب، یورپی یونین کے اندر بھی اس معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ کچھ رکن ممالک ٹیسلا کی ٹیکنالوجی کو جدید دور کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک سڑکوں پر چلنے والے عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو لے کر فکرمند ہیں۔ یورپی ریگولیٹرز کا یہ رویہ نہ صرف شفافیت کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ اس سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عوامی احتساب سے بچنے کا موقع بھی مل رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی پارلیمنٹ اس معاملے پر سخت مؤقف اپنا سکتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسی خودکار ٹیکنالوجیز کو صرف کمپنی کے دعووں پر نہیں، بلکہ سخت عوامی جانچ کے عمل سے گزار کر ہی سڑکوں پر لایا جائے۔