Business
امریکہ میں جاب مارکیٹ کی صورتحال، روزگار کے اعداد و شمار میں کمی
امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ ملازمتوں میں غیر متوقع کمی دیکھی گئی ہے۔ بے روزگاری کی شرح میں معمولی کمی کی وجہ ملازمت چھوڑنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بتائی جا رہی ہے۔
امریکہ کی لیبر مارکیٹ اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے جہاں روزگار کے اعداد و شمار ملے جلے رجحانات ظاہر کر رہے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکی آجروں نے گزشتہ ماہ غیر متوقع طور پر 23,000 ملازمتیں ختم کر دیں، جس نے معاشی تجزیہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ محکمہ محنت کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ اعداد و شمار میں مئی اور جون کے مہینوں کے دوران روزگار کے مواقع میں 103,000 کی کمی کی تصدیق کی گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکی معیشت میں نئی بھرتیاں توقعات سے کہیں زیادہ سست روی کا شکار ہیں۔
اگرچہ سرکاری اعداد و شمار میں بے روزگاری کی شرح 4.1 فیصد تک کم ہوئی ہے، تاہم ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس بہتری کے پیچھے اصل وجہ روزگار کے مواقع میں اضافہ نہیں، بلکہ ملازمت کے متلاشی افراد کا ایک بڑی تعداد میں مارکیٹ چھوڑ جانا ہے۔ جب لوگ فعال طور پر نوکری کی تلاش ترک کر دیتے ہیں، تو انہیں بے روزگاروں کی فہرست میں شمار نہیں کیا جاتا، جس سے مصنوعی طور پر بے روزگاری کی شرح کم دکھائی دیتی ہے۔ یہ رجحان امریکی لیبر فورس کی مجموعی صلاحیت اور اعتماد کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
دوسری جانب، لیبر مارکیٹ میں لی آف (چھانٹیوں) کی شرح میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، جو ایک مثبت پہلو سمجھا جا رہا ہے۔ کمپنیاں اپنے موجودہ ملازمین کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن نئی بھرتیاں کرنے میں انتہائی احتیاط سے کام لے رہی ہیں۔ مہنگائی کے دباؤ اور شرح سود میں تبدیلیوں کے باعث کاروباری ادارے مستقبل کے بارے میں کسی بھی قسم کا بڑا مالی خطرہ مول لینے سے گریزاں ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر لیبر مارکیٹ کی یہ سست روی برقرار رہی تو امریکی فیڈرل ریزرو کو اپنی مانیٹری پالیسی پر نظرثانی کرنی پڑ سکتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں جاری ہونے والی مزید رپورٹس یہ واضح کریں گی کہ کیا یہ محض ایک عارضی جمود ہے یا امریکی معیشت واقعی کسی بڑے سست روی کے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ سرمایہ کار اور پالیسی ساز اب ان اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کے معاشی فیصلوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔