World
شراب پی کر ڈرائیونگ کیسز میں ملزمان کو بریتھلائزر شواہد چیلنج کرنے کا حق
برطانیہ کی ہائی کورٹ نے ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے شراب پی کر گاڑی چلانے کے ملزمان کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کو بریتھلائزر کے نتائج اور مشین کی درستگی پر سوال اٹھانے کا پورا قانونی حق حاصل ہے۔
برطانیہ کی ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی مقدمے میں ڈائریکٹر آف پبلک پراسیکیوشن (DPP) کی جانب سے دائر کردہ چیلنج کو مسترد کرتے ہوئے شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے والے ملزمان کے حق میں تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب شراب نوشی کے مقدمات میں سامنا کرنے والے ملزمان کے لیے یہ قانونی راستہ ہموار ہو گیا ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کی جانب سے استعمال ہونے والے بریتھلائزر ٹیسٹ (Breathalyser) کے نتائج اور ان آلات کی تکنیکی درستگی کو عدالت میں چیلنج کر سکیں اور ان پر جرح کر سکیں۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بحث کی گئی تھی کہ آیا پراسیکیوشن کے پاس موجود الیکٹرانک آلات کی رپورٹ کو حتمی مانا جائے یا ملزم کو اس بات کی اجازت ہو کہ وہ مشین کے کام کرنے کے طریقے اور اس کی کیلیبریشن پر سوال اٹھا سکے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شفاف ٹرائل کے تقاضوں کے مطابق ہر ملزم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس ثبوت کو پرکھ سکے جس کی بنیاد پر اس کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے پراسیکیوشن کے لیے اب شراب نوشی کے کیسز ثابت کرنا پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اب انہیں بریتھلائزر آلات کی تکنیکی شفافیت کا ثبوت بھی فراہم کرنا ہوگا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عدالتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے قبل پراسیکیوشن اکثر بریتھلائزر کی رپورٹ کو ناقابل تردید ثبوت کے طور پر پیش کرتی تھی۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد اب تمام زیر التواء مقدمات پر اثر پڑے گا جہاں بریتھلائزر کو مرکزی ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تکنیکی آلات کے نتائج خودکار طریقے سے سچائی کا درجہ نہیں رکھتے، بلکہ ان کی جانچ پڑتال کرنا عدالت کا فرض ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
اس فیصلے کے بعد پولیس اور پراسیکیوشن کے محکموں کو شراب نوشی کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی اپنی حکمت عملیوں اور ٹیکنالوجی کی جانچ پڑتال کے عمل کو مزید سخت کرنا پڑے گا۔ ملزمان کے وکلاء نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے انسانی حقوق اور قانونی شفافیت کی ایک بڑی فتح قرار دیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری وکلاء اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس فیصلے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے یا عدالت کی جانب سے طے کردہ نئے معیارات کے مطابق مقدمات چلائے جائیں گے۔