AI
اے آئی نے تخلیق کیے نئے وائرس، میڈیکل سائنس میں بڑا بریک تھرو
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے پہلی بار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے ایسے وائرس ڈیزائن کیے ہیں جو قدرت میں موجود نہیں ہیں۔ یہ پیشرفت جہاں طب کے شعبے میں انقلابی ثابت ہو سکتی ہے، وہیں اس سے بائیو سکیورٹی کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے ایک تاریخی سائنسی پیشرفت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ایسے خود سے نقل پیدا کرنے والے (self-replicating) وائرس تیار کر لیے ہیں جو قدرتی طور پر زمین پر موجود نہیں ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب سائنسدانوں نے اے آئی ماڈلز کی مدد سے مکمل طور پر نئے وائرل جینوم ڈیزائن کیے اور انہیں لیبارٹری میں عملی طور پر تخلیق کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس تحقیق نے سائنسی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے اور اب ماہرین اس ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر گہری بحث کر رہے ہیں۔
محققین کے مطابق، یہ وائرس بنیادی طور پر میڈیکل ریسرچ اور بیماریوں کے علاج میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ اے آئی ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے، سائنسدان ایسے مخصوص وائرس ڈیزائن کر سکتے ہیں جو انسانی جسم میں موجود کینسر زدہ خلیات کو نشانہ بنا سکیں یا جین تھراپی کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنا سکیں۔ یہ ٹیکنالوجی ادویات سازی کے عمل میں ایک نیا انقلاب لا سکتی ہے کیونکہ اس سے وائرس کی ساخت کو تبدیل کرکے اسے فائدہ مند مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس کامیابی کے ساتھ ہی سکیورٹی اور اخلاقی خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے وائرس ڈیزائن کرنے کا عمل عام ہو گیا تو اس کا غلط استعمال انسانیت کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ بائیو سکیورٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی غلط ہاتھوں میں چلی گئی تو خطرناک اور مہلک وائرس تیار کرنے کا عمل بہت آسان ہو جائے گا، جسے کنٹرول کرنا ناممکن ہوگا۔
اس وقت پوری دنیا میں اے آئی کے ضوابط پر بات ہو رہی ہے اور یہ تازہ ترین تحقیق اس بحث کو مزید تقویت دیتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال پر سخت بین الاقوامی نگرانی ہونی چاہیے۔ اسٹینفورڈ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس ٹیکنالوجی کو صرف اور صرف انسانیت کی بہتری اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے استعمال کرنے کے حامی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ مستقبل میں اس کے سکیورٹی پروٹوکولز کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔