Pakistan
سینیٹ کا اجلاس: تمباکو اسمگلنگ اور پریس کی آزادی پر اہم پیش رفت
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے تمباکو کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم اور صحافیوں کی آزادی پر تفصیلی غور کیا ہے۔ اجلاس کے دوران ایف بی آر سے سگریٹ کی چوری اور ٹیکس ڈیٹا کے حوالے سے سخت سوالات کیے گئے ہیں۔
پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے حالیہ اجلاس میں ملک میں پریس کی آزادی اور تمباکو کی اسمگلنگ جیسے اہم موضوعات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ریاستی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی نگرانی یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران سینیٹ اراکین نے صحافیوں کے ذرائع اور فونز کی نگرانی کے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان حساس امور کی شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ میڈیا کی آزادی پر حرف نہ آ سکے۔
اس اجلاس کا ایک اہم حصہ تمباکو کی صنعت میں جاری اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کا معاملہ تھا۔ کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ خاص طور پر سگریٹ کے شعبے سے حاصل ہونے والے 1120 ارب روپے کے ڈیٹا کے حوالے سے ایف بی آر کو طلب کیا گیا اور پوچھا گیا کہ اسمگل شدہ سگریٹ کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔ اراکین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ سگریٹ کی چوری اور ٹیکس چوری سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ محکموں پر عائد ہوتی ہے۔
کمیٹی کے سامنے یہ معاملہ بھی اٹھایا گیا کہ کس طرح سینیٹ کے اراکین کو اسمگل شدہ سگریٹ کی ضبطگی کے واقعات کے ساتھ غلط انداز میں جوڑا جا رہا ہے، جسے کمیٹی نے ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔ اراکین نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ تمباکو کی صنعت میں شفافیت لانے کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ جعلی اور غیر قانونی سگریٹ کی فروخت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
آخر میں، سینیٹ کمیٹی نے ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اسمگلنگ کے خلاف آپریشنز میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ صحافت کا احترام جمہوریت کی بنیاد ہے اور کسی بھی سرکاری کارروائی کے دوران میڈیا کے حقوق کو ہر صورت میں محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت دی کہ ان تمام معاملات پر ایک تفصیلی رپورٹ اگلی میٹنگ میں پیش کی جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور قومی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔