Pakistan
اراکین اسمبلی کے لیے اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر کے تمام اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو اپنے سالانہ گوشوارے جمع کرانے کی ڈیڈ لائن جاری کر دی ہے۔ کمیشن نے ان اثاثوں کی تصدیق کے لیے مزید قانونی اختیارات حاصل کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے ملک بھر کے تمام اراکین پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے اثاثوں کے سالانہ گوشوارے مقررہ وقت کے اندر جمع کروائیں۔ کمیشن کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے مطابق اراکین کو اپنے مالیاتی گوشوارے 31 دسمبر تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرانا لازمی ہیں۔ یہ اقدام انتخابی قوانین کی پاسداری اور عوامی نمائندوں کے مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسے اراکین اسمبلی کے اثاثوں کی جانچ پڑتال اور تصدیق کے لیے مزید قانونی اختیارات دیے جائیں۔ فی الحال الیکشن کمیشن کے پاس اراکین کی جانب سے جمع کرائے گئے مالیاتی بیانات کی براہِ راست تحقیقات کرنے کے لیے محدود وسائل اور اختیارات ہیں۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ اگر انہیں اثاثوں کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی قانونی حیثیت دی جائے تو عوامی نمائندوں کے مالی معاملات میں شفافیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور بدعنوانی کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
متعدد قومی خبر رساں اداروں کے مطابق الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے باقاعدہ مراسلے جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مقررہ تاریخ کے بعد گوشوارے جمع نہ کروانے والے اراکین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ موقف رہا ہے کہ پارلیمنٹیرینز کا فرض ہے کہ وہ عوام کے سامنے اپنے اثاثوں کا شفاف ریکارڈ رکھیں تاکہ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بحال رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ مطالبہ کہ انہیں اثاثوں کی جانچ پڑتال کے لیے براہِ راست قانونی اختیارات ملنے چاہئیں، ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر حکومت اس مطالبے کو قانونی شکل دیتی ہے تو اس سے مستقبل میں الیکشن کمیشن کی گرفت اور احتسابی عمل کو مزید تقویت ملے گی۔ اراکین پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس آئینی تقاضے کو وقت پر پورا کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگیوں یا نااہلی کے خطرے سے بچا جا سکے۔