Sports
شکیب الحسن کی کرکٹ میں واپسی ناممکن، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا بڑا اعلان
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ سابق آل راؤنڈر شکیب الحسن کا بین الاقوامی کرکٹ میں مستقبل اب ختم ہو چکا ہے۔ شکیب نے اپنی حفاظت کی یقین دہانی پر وطن واپسی اور مقدمات کا سامنا کرنے کا عندیہ دیا تھا۔
بنگلہ دیشی کرکٹ کے صف اول کے آل راؤنڈر شکیب الحسن کے حوالے سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شکیب الحسن اب دوبارہ بنگلہ دیش کی جانب سے کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ بورڈ کے حکام کا ماننا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات اور شکیب الحسن کے ماضی کے متنازع اقدامات کے پیش نظر انہیں ٹیم میں شامل کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب شکیب الحسن نے خود ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر انہیں حکومت کی جانب سے اپنی حفاظت کی مکمل یقین دہانی کرائی جائے تو وہ وطن واپس آ کر اپنے خلاف درج مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
شکیب الحسن، جو بنگلہ دیش کی سابق حکومت کے دوران رکن پارلیمنٹ بھی رہ چکے ہیں، شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ان پر عوامی مظاہروں کے دوران خاموش رہنے اور حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ شکیب نے حال ہی میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ اپنے ملک کے لوگوں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں، تاہم بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ان کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ فی الحال ان کی ٹیم میں واپسی کے لیے سازگار ماحول موجود نہیں ہے۔
کرکٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ اس کے سیاسی اثرات بھی بہت گہرے ہیں۔ شکیب الحسن، جو طویل عرصے تک آئی سی سی رینکنگ میں نمبر ون آل راؤنڈر رہے ہیں، کا کیریئر اس طرح کے متنازع انداز میں ختم ہونا بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ بورڈ حکام نے مزید کہا کہ وہ مستقبل میں کسی بھی کھلاڑی کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے گریز کرنے کی ہدایت دیں گے تاکہ قومی ٹیم کے وقار اور کھیل کے ماحول کو سیاسی انتشار سے دور رکھا جا سکے۔ شکیب الحسن اب بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کے وکلاء کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے عمل پر نظر رکھی جا رہی ہے، تاہم کرکٹ کے میدانوں میں ان کی واپسی اب ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔