Business
امریکہ کی معدنیات اور دفاعی صنعت میں 3 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی دفاعی پیداوار اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اہم معدنیات اور بیٹری پروجیکٹس میں 3 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چین پر انحصار کم کرنا اور امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک اہم پالیسی اقدام کے تحت اہم معدنیات اور بیٹری کے منصوبوں میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی دفاعی سپلائی چین کو مستحکم کرنے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں منعقدہ ایک خصوصی راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک بار پھر معدنیات کے میدان میں دنیا کی سپر پاور بننے کی جانب گامزن ہے، اور اس شعبے کو گزشتہ برسوں میں نظر انداز کیا گیا تھا جس کی تلافی اب کی جا رہی ہے۔ اس پیکیج میں مختلف نجی کمپنیوں کے لیے مشروط قرضے شامل ہیں جن میں سائیلا نینو ٹیکنالوجیز کے لیے 1.4 ارب ڈالر، سن رائز انرجی میٹلز کے لیے 400 ملین ڈالر اور نائرون میگنیٹکس کے لیے 150 ملین ڈالر کے قرضے سرِفہرست ہیں۔
اس سرمایہ کاری کا ایک اہم مقصد امریکہ کی ہتھیاروں کی تیاری کی صلاحیت کو بڑھانا ہے، جو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران کافی حد تک ختم ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق ریئر ارتھ، ٹنگسٹن، جرمینیم اور اسکینڈیم جیسی معدنیات جدید میزائلوں، لڑاکا طیاروں اور بکتر بند گاڑیوں کی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ کو اپنی دفاعی خود مختاری برقرار رکھنی ہے تو اسے چین کی سپلائی چین پر انحصار کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔ اسی لیے حکومت نے ایک 12 ارب ڈالر کا اسٹریٹجک منرلز اسٹاک پائل بھی شروع کیا ہے تاکہ بوقتِ ضرورت خام مال کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس منصوبے میں صرف صنعتی سرمایہ کاری ہی شامل نہیں، بلکہ تعلیمی شعبے پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ محکمہ توانائی نے امریکی مائننگ اسکولوں کے لیے 100 ملین ڈالر کی گرانٹس کا اعلان کیا ہے تاکہ کان کنی کے شعبے میں ماہرین کی تعداد کو اگلے دو سالوں میں دوگنا کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چین کی اس صنعت میں برتری کی ایک بڑی وجہ ان کی یونیورسٹیوں کا وسیع نیٹ ورک ہے، اور امریکہ اسی ماڈل کو اپنا کر اپنے طلباء کو اس جدید میدان میں لانا چاہتا ہے۔ پینٹاگون بھی اس تعلیمی اصلاحات میں شامل ہے اور اس نے مائننگ اسکولوں کے تین پروجیکٹس کے لیے 80 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم نہ صرف امریکی معیشت کو نئی طاقت دے گا بلکہ عالمی منڈی میں بھی امریکہ کا اثر و رسوخ بڑھائے گا۔ آسٹریلیا کی حکومت نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، خاص طور پر سن رائز اسکینڈیم پروجیکٹ کے لیے دی گئی امداد پر، کیونکہ اس سے ایرو اسپیس اور کلین انرجی کے شعبوں میں نئی راہیں کھلیں گی۔ اس تمام تر پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اب دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اپنی مقامی صلاحیتوں پر انحصار کرنے کی حکمت عملی پر سختی سے عمل پیرا ہے، جس سے آنے والے وقتوں میں عالمی دفاعی مارکیٹ میں بڑے تبدیلیاں متوقع ہیں۔