LIVE
Loading Breaking News...

سندھ پبلک سروس کمیشن سی سی ای نتائج اور میرٹ کا بحران

News Image
سندھ میں سی سی ای کے نتائج میں انتہائی کم کامیابی کی شرح پر امیدواروں نے بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کر دیا ہے جس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچ چکا ہے۔ امیدواروں کا الزام ہے کہ نتائج میں بے ضابطگیاں کی گئی ہیں اور شفافیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
سندھ میں سرکاری ملازمتوں کے خواہش مند ہزاروں نوجوان اس وقت شدید مایوسی اور غصے کا شکار ہیں جب سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) نے کمبائنڈ کمپیٹیٹو ایگزامینیشن (CCE) کے نتائج کا اعلان کیا۔ 4300 سے زائد امیدواروں میں سے صرف 70 افراد کا کامیاب ہونا نہ صرف ایک حیران کن اعدادوشمار ہے بلکہ اس نے پورے انتخابی عمل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ گریڈ 16 اور 17 کی ان اسامیوں کے لیے ہونے والے امتحانات میں ہونے والی مبینہ دھاندلیوں نے نوجوانوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ پرچوں کی مارکنگ اور نتائج میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں، جس کی ایک مثال کریمنولوجی اور انوائرمینٹل سائنس جیسے مضامین ہیں جن کے پرچوں کے نمبرز اور مارکنگ میں تضاد دیکھا گیا ہے۔ احتجاج کا دائرہ کار حیدرآباد میں ایس پی ایس سی ہیڈ آفس کے باہر دھرنے تک پھیل گیا ہے، جہاں امیدواروں نے ’تحریک برائے بحالی میرٹ‘ (MRM) کا آغاز کیا ہے۔ اس تحریک کا مقصد سرکاری شعبوں میں اقربا پروری اور میرٹ کے خاتمے کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔ تاہم، انتظامیہ کی جانب سے نرمی کے بجائے سخت رویہ اپنایا گیا اور مظاہرین کے خلاف انسداد دہشت گردی سمیت مختلف قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ اس عمل نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور طلبہ تنظیموں نے سندھ بھر میں ریلیاں نکالیں، جس کے بعد سیاسی جماعتوں کے اراکین نے بھی سندھ اسمبلی میں قراردادیں جمع کرائیں، جن میں ان نتائج کو معطل کر کے غیر جانبدارانہ عدالتی یا فارنزک آڈٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت آنے کے بعد عدالت نے ان نتائج پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے تمام تر تقرریوں کو روک دیا ہے۔ عدالت نے ایس پی ایس سی کے حکام کو طلب کر کے ان سے ریکارڈ اور شفافیت کے فقدان پر وضاحت مانگی ہے۔ دوسری جانب کمیشن کی جانب سے عدالتی احکامات کو چیلنج کرنے کے لیے قانونی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امیدواروں کے وکلاء کا کہنا ہے کہ جب تک شفاف فارنزک آڈٹ نہیں ہو جاتا، تب تک بھرتیوں کا عمل غیر قانونی ہے۔ یہ تنازعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کے سرکاری نظام میں میرٹ کی بالادستی کتنی کمزور ہو چکی ہے اور نوجوان اپنی حق تلفی پر کس قدر بے چین ہیں۔