LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ اسٹاک مارکیٹ میں گراوٹ، عالمی معاشی اثرات کا جائزہ

News Image
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر نیوزی لینڈ کی حصص مارکیٹ میں منفی رجحان دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار اب آئندہ ہفتے شروع ہونے والے کارپوریٹ رپورٹنگ سیزن پر گہری نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی شیئر مارکیٹ میں منگل کے روز غیر یقینی صورتحال کے باعث نمایاں مندی دیکھنے میں آئی، جہاں اہم انڈیکس 0.96 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ ہے۔ جیسے ہی خطے میں سیاسی عدم استحکام کی خبریں گردش کرتی ہیں، عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے جس کا براہ راست اثر سرمایہ کاروں کے اعتماد پر پڑتا ہے۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے سرمایہ کار اس وقت خاصے محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔ کاروباری طبقہ آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے کارپوریٹ رپورٹنگ سیزن کے منتظر ہے، جس کے بارے میں ماہرین کافی پر امید ہیں۔ اب تک سامنے آنے والے ابتدائی اشارے اور مختلف کمپنیوں کی جانب سے دیے گئے بیانات زیادہ تر مثبت رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ معیشت کا بنیادی ڈھانچہ دباؤ کے باوجود مستحکم ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر سیاسی بحرانوں کا تسلسل مقامی مارکیٹ کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ مندی کو عارضی قرار دیتے ہوئے مالیاتی ماہرین نے کہا کہ جب تک عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، تب تک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیوز میں تنوع لائیں تاکہ کسی بھی قسم کے اچانک معاشی جھٹکوں سے بچا جا سکے۔ آئندہ ہفتے جاری ہونے والی رپورٹس مارکیٹ کی مستقبل کی سمت کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی، جس کے بعد سرمایہ کاروں کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینا آسان ہوگا۔ مختصراً، نیوزی لینڈ کی مارکیٹ فی الحال بیرونی دباؤ کا شکار ہے لیکن کاروباری اداروں کی کارکردگی پر مبنی رپورٹس آنے والے دنوں میں مارکیٹ کو سنبھالا دینے کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکومتی سطح پر بھی معاشی اشاریوں کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول برقرار رہے اور کسی بھی بڑے مالیاتی بحران سے بچا جا سکے۔