LIVE
Loading Breaking News...

پی ڈبلیو سی کا انٹرنز کے لیے تفریحی دورہ منسوخ

News Image
مشہور عالمی فرم پی ڈبلیو سی نے اپنے انٹرنز کے لیے موسم گرما کے اختتام پر ڈزنی ورلڈ کے طے شدہ دورے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس فیصلے کی وجوہات کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم اس پر ملازمین اور انٹرنز کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مشہور عالمی اکاؤنٹنگ اور کنسلٹنسی فرم 'پی ڈبلیو سی' (PwC) نے اپنے انٹرنز کے لیے موسم گرما کے اختتام پر منعقد ہونے والے ڈزنی ورلڈ کے سالانہ تفریحی دورے کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ کمپنی کی روایتی تقریب کا حصہ تھا جس میں ہر سال انٹرن شپ مکمل کرنے والے نوجوانوں کو فلوریڈا کے مشہور تفریحی پارک میں لے جایا جاتا تھا۔ اس منسوخی کی خبر سامنے آتے ہی انٹرنز کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے، کیونکہ یہ دورہ ان کی محنت کے اعتراف اور نیٹ ورکنگ کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی معلومات کے مطابق، رواں سال اس روایتی دورے کو منعقد نہیں کیا جائے گا۔ پی ڈبلیو سی نے اس اقدام کے پیچھے کسی خاص معاشی دباؤ یا تزویراتی وجوہات کی وضاحت نہیں کی، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر کارپوریٹ اداروں میں اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسیوں کے تحت اس طرح کے اخراجات کو محدود کیا جا رہا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف انٹرنز کے لیے تفریح کا باعث ہوتا تھا بلکہ کمپنی کی جانب سے ایک پرکشش مراعاتی پیکیج کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا، جس سے نئے ٹیلنٹ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں مدد ملتی تھی۔ اس فیصلے کے اثرات کمپنی کے اندرونی ماحول پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف پی ڈبلیو سی عالمی سطح پر اپنے ملازمین کی تعداد اور کام کے طریقہ کار میں تبدیلیاں لا رہی ہے، وہیں انٹرن شپ پروگرام کے دوران دی جانے والی مراعات میں کٹوتی نوجوانوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ کئی انٹرنز نے اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں طویل عرصے سے اس دورے کا انتظار تھا اور اچانک منسوخی نے ان کے جوش و خروش کو کم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ پی ڈبلیو سی جیسی بڑی کمپنیوں میں انٹرن شپ کرنے والے نوجوانوں کے لیے اس قسم کے ایونٹس کلیدی اہمیت رکھتے ہیں تاکہ وہ پیشہ ورانہ ماحول سے ہٹ کر ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کر سکیں۔ کمپنی کی انتظامیہ نے تاحال اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ آیا مستقبل میں اس طرح کی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے گا یا نہیں، تاہم موجودہ صورتحال نے کارپوریٹ دنیا میں ملازمین کی مراعات اور کمپنیوں کی کفایت شعاری پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔