LIVE
Loading Breaking News...

قدیم مصر کی ٹیکنالوجی کا راز: 5300 سال پرانی ڈرل دریافت

News Image
مصر سے ملنے والے ایک قدیم نمونے کی دوبارہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ یہ محض ایک سوئی نہیں بلکہ 5300 سال قدیم روٹری ڈرل ہے۔ اس دریافت نے قدیم مصری ٹیکنالوجی کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کر دیا ہے۔
ماہرینِ آثار قدیمہ کی جانب سے مصر کے ایک عجائب گھر میں رکھے گئے پرانے نمونے کی دوبارہ جانچ پڑتال نے تاریخ کے ایک اہم باب کو دوبارہ لکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ برسوں تک جس چیز کو محض ایک معمولی چمڑے کی سوئی یا 'اول' سمجھا جاتا رہا تھا، وہ دراصل 5300 سال قدیم 'بو ڈرل' (Bow Drill) ثابت ہوئی ہے۔ یہ دریافت اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ قدیم مصری تہذیب اپنے ابتدائی دور میں ہی مکینیکل ٹیکنالوجی اور روٹری آلات کے استعمال سے بخوبی واقف تھی، جو کہ توقع سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھی۔ مائیکروسکوپک تجزیے سے اس نمونے پر ایسے واضح نشانات ملے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اسے سوراخ کرنے کے لیے ایک گھومنے والے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ موجود چمڑے کے کنڈلی نما دھاگے اس ٹیکنالوجی کے مکینیکل پہلو کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ یہ آلہ قبل از شاہی دور (Predynastic period) سے تعلق رکھتا ہے، جو قدیم مصر کی ٹیکنالوجی کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دریافت نے مورخین کے اس دیرینہ نظریے کو چیلنج کر دیا ہے کہ قدیم مصریوں کے پاس پتھروں اور سخت دھاتوں کو تراشنے کے لیے جدید مکینیکل طریقے موجود نہیں تھے۔ اب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت اہرام مصر اور دیگر عظیم الشان عمارتوں کی تعمیر میں استعمال ہونے والے آلات کے بارے میں نئی بحث کا آغاز کرے گی۔ یہ دریافت نہ صرف ٹیکنالوجی کی تاریخ کا رخ موڑ رہی ہے بلکہ قدیم انجینئرنگ کے ماہرین کے لیے تحقیق کے نئے دروازے بھی کھول رہی ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر 5300 سال قبل اتنی پیچیدہ مکینیکل ڈرل موجود تھی، تو یہ ممکن ہے کہ قدیم مصریوں کے پاس دیگر ایسے آلات بھی ہوں گے جنہیں ہم ابھی تک دریافت نہیں کر سکے یا غلطی سے انہیں سادہ چیزیں سمجھ رہے ہیں۔ اس دریافت نے عالمی سطح پر ماہرین آثار قدیمہ اور سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے اور مستقبل میں مزید ایسی ہی دریافتوں کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔