LIVE
Loading Breaking News...

جاپان کی فوجی ٹیکنالوجی میں امریکی مصنوعی ذہانت کا ممکنہ انضمام

News Image
جاپان کی جانب سے فوجی فیصلہ سازی کو تیز کرنے کے لیے امریکی اے آئی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے امکان پر بحث جاری ہے۔ اس اقدام پر ملکی خودمختاری کے تحفظ کے حوالے سے ماہرین اور ناقدین کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جاپان کی حکومت اپنے دفاعی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل کو تیز تر بنانے کے لیے امریکی مصنوعی ذہانت (AI) کے سسٹمز کے استعمال پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جاپانی حکام پالنٹیر (Palantir) اور اینڈوریل (Anduril) جیسی معروف امریکی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کے انضمام کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کے ممکنہ سیکیورٹی چیلنجز سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ یہ اقدام خاص طور پر فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس اقدام کے سامنے آتے ہی جاپان کے اندر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ ناقدین اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپان کے انتہائی خفیہ فوجی ڈیٹا تک غیر ملکی نجی کارپوریشنز کو رسائی دینا ملکی خودمختاری کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر جاپان کا حساس دفاعی ڈیٹا امریکی اے آئی سسٹمز کے ذریعے پراسیس کیا جاتا ہے تو اس سے ڈیٹا کی سیکیورٹی اور خود مختار فیصلہ سازی کے حوالے سے سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ بالخصوص پالنٹیر کے 'میون اسمارٹ سسٹم' جیسے ٹولز کے استعمال پر بہت سے حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آیا یہ سسٹم جاپانی قوانین اور سیکیورٹی پروٹوکولز کے مطابق کام کر پائیں گے۔ اس صورتحال میں جاپانی وزارت دفاع کو ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ایک طرف انہیں خطے میں بدلتی ہوئی عسکری صورتحال کے پیش نظر اپنی ٹیکنالوجی کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانا ہے، تو دوسری طرف انہیں عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے قومی خودمختاری کے تحفظ کے مطالبات کا بھی سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پاتا ہے تو اس سے جاپان اور امریکہ کے درمیان عسکری ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کی ایک نئی سطح کا آغاز ہوگا، لیکن ساتھ ہی اس کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور ڈیٹا شیئرنگ کے واضح معاہدوں کی ضرورت ہوگی تاکہ قومی مفادات پر کوئی آنچ نہ آئے۔ آئندہ کچھ مہینوں میں جاپان کی جانب سے اس حوالے سے حتمی فیصلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر جاپانی پارلیمنٹ میں بھی بحث متوقع ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومت سے اس منصوبے کے سیکیورٹی خدشات پر تفصیلی جواب طلب کر سکتی ہیں۔ یہ پیشرفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ اب صرف کمرشل مقاصد تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا بھر کی بڑی طاقتیں اسے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے کلیدی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔